site
stats
صحت

کھٹملوں کی نشوونما کیسے روکی جائے؟ محققین نے بتادیا

لندن: کیا آپ کو معلوم ہے کہ گھروں میں گندگی اور گندے کپڑوں کے باعث کھٹملوں کی افزائش اور نشوونما بہت تیزی سے ہوتی ہے، یہ بات برطانوی یونیورسٹی میں ہونے والی تحقیق میں سامنےآئی۔

تفصیلات کے مطابق کھٹمل نامی کیڑے کی موجودگی کسی بھی شخص کے لیے بہت تکلیف دہ ہوتی ہے کیونکہ ایک بار آنے کے بعد یہ جانے کا نام نہیں لیتے اور اس کو ختم کرنے کے لیے کئی جتن کرنے پڑتے ہیں جو بہت مشکل ہوتا ہے۔

برطانوی یونیورسٹی شیفلڈ کے ماہرین انسانی خون چوسنے والے کیڑے کی نشوونما کی وجوہات جاننے کے لیے سرجوڑ کر بیٹھے تو اس دوران یہ بات سامنے آئی کہ اس کیڑے کو گندگی اور گندے کپڑے بہت پسند ہیں۔

تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ یہ کیڑا کسی مخصوص علاقے میں نہیں بلکہ دنیا بھر کے ممالک میں پایا جاتا ہے، کھٹمل اپنی خوراک انسانی خون چوس کر پوری کرتا ہے۔

محقق کار ڈاکٹر ولیم کا کہنا ہے کہ کھٹمل عام طور پر ہربڑے شہر کے گھروں اور ہوٹلز میں موجود ہوتے ہیں، اگر کسی بھی کمرے میں یہ ایک بار داخل ہوجائیں تو انہیں ختم کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔

ڈاکٹر ولیم نے کھٹملوں سے بچاؤ کا طریقہ بتاتے ہوئے کہا کہ ’ریسرچ میں اس بات پر غور کیا گیا کہ جو شخص بستر یا کمرے میں جانے سے قبل اپنے کپڑے اچھی طرح جھاڑ لے تو اُسے کھٹملوں کی موجودگی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا‘۔

کھٹمل کن کپڑوں پر چڑھتے ہیں؟ اس کا مشاہدہ کرنے کے لیے تحقیق کے دوران دو صاف اور دو گندے کپڑے رکھے گئے، حیران کن طور پر یہ کیڑے دونوں ہی کپڑوں پر چڑھ گئے۔

پڑھیں: بستر کا رنگ کھٹملوں کو متوجہ کرنے کا سبب

تحقیق کے دوران ایک کمرے کو نارمل جبکہ دوسرے میں کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس بھری گئی، حیران کُن طور پر کاربن ڈائی آکسائیڈ والے کمرے سے کھٹمل بھاگنا شروع ہوگئے۔

محقق کار اس نتیجے پر پہنچے کہ کھٹمل کی نشوونما گندگی کے باعث ہوتی ہے اور وہ ایسے مقامات پر رہنا پسند نہیں کرتے جہاں انسان کی موجودگی نہ ہو، ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ بستر پر جانے اور کمرے میں داخل ہونے سے قبل کپڑوں کو اچھی طرح جھاڑ نے سے کھٹمل کی موجودگی کے آثار کم ہوجاتے ہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top