The news is by your side.

بریسٹ کینسر: خواتین گھر میں اپنا ٹیسٹ کیسے کر سکتی ہیں؟

دنیا بھر میں ہر سال اکتوبر کے مہینے کو چھاتی کے سرطان یا بریسٹ کینسر سے آگاہی کے ماہ کے طور پر منایا جاتا ہے جسے بریسٹ کینسر کی علامت گلابی ربن کی نسبت سے پنک ٹوبر کہا جاتا ہے۔

پاکستان میں بریسٹ کینسر کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے، ملک میں ہر سال بریسٹ کینسر کے 90 ہزار سے 1 لاکھ تک کیسز رپورٹ ہوتے ہیں جن میں 45 فیصد ناقابل علاج ہوتے ہیں۔

ہر سال ملک میں 40 ہزار خواتین بریسٹ کینسر کے باعث موت کے گھاٹ اتر جاتی ہیں۔

ملک میں بریسٹ کینسر کے حوالے سے آگہی کے فروغ پر کام کرنے والے ادارے پنک ربن کے سربراہ عمر آفتاب کا کہنا ہے کہ بریسٹ کینسر کو ایک ممنوعہ موضوع سمجھا جاتا ہے جس کی وجہ سے اس مرض میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ خواتین اس مرض کو چھپاتی ہیں یہی وجہ ہے کہ ان کا مرض بڑھ کر ناقابل علاج ہوجاتا ہے۔

فاطمہ میموریل ہاسپٹل سے منسلک اونکولوجسٹ ڈاکٹر عندلیب خانم کا کہنا ہے کہ ان کے پاس آنے والی زیادہ تر مریض خواتین کا مرض آخری اسٹیج پر ہوتا ہے، وہ ایک عرصے سے بریسٹ میں ہونے والی تکلیف کو شرم کے مارے چھپا رہی ہوتی ہیں اور اپنے والدین، شوہر یا بچوں کو نہیں بتاتیں۔

ڈاکٹر عندلیب کے مطابق اس حوالے سے یہ توہمات بھی پائے جاتے ہیں کہ اگر ڈاکٹر کے پاس گئے تو ٹیسٹ کے لیے سوئی لگائی جائے گی یا کٹ لگایا جائے گا، اس سے یہ مرض پھیل جائے گا، وہ ایکسرے یا الٹرا ساؤنڈ کروانے سے بھی ہچکچاتی ہیں۔

بعض خواتین اگر جلدی ڈاکٹر کے پاس آجائیں اور ڈاکٹر انہیں سرجری کا کہہ دے تب بھی خواتین اور ان کے گھر والے سرجری کرنے سے کتراتے ہیں، یوں ایک ایسا مرض جس پر جلد تشخیص سے آسانی سے قابو پایا جاسکتا ہے، بڑھ کر جان لیوا ہوجاتا ہے۔

ڈاکٹر عندلیب کا کہنا تھا کہ پسماندہ علاقوں میں خواتین ڈاکٹرز کی عدم دستیابی بھی خواتین کو اس کا علاج کرنے سے روک دیتی ہے کیونکہ وہ خود یا ان کے اہل خانہ مرد ڈاکٹرز کے پاس نہیں جانا چاہتے۔

وجوہات اور علامات

ڈاکٹر عندلیب کا کہنا تھا کہ پاکستانی معاشرے میں بریسٹ کینسر کے پھیلاؤ کی وجہ جاننے کے لیے جامع تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ اس کے اسباب معلوم کیے جاسکیں۔

انہوں نے بتایا کہ پہلے کہا جاتا تھا کہ شادی نہ ہونا یا دیر سے ہونا، اولاد کا نہ ہونا اور ماؤں کا بچوں کو فیڈ نہ کروانا بریسٹ کینسر کے خطرات کو جنم دیتا ہے۔ یہ وجوہات مغربی ممالک سے حاصل کردہ ڈیٹا سے طے کی گئی تھیں، تاہم اب دیکھا جارہا ہے کہ پاکستان میں شادی شدہ اور بچوں والی خواتین بھی بریسٹ کینسر کا شکار ہورہی ہیں، تقریباً یہ تمام خواتین ہی بچوں کو اپنا دودھ پلا چکی ہوتی ہیں لہٰذا کہا جاسکتا ہے کہ بریسٹ فیڈنگ بھی کینسر سے بچانے میں کوئی خاص کردار ادا نہیں کرتی۔

ڈاکٹر عندلیب کا کہنا تھا کہ مغربی ممالک میں 40 سال سے اوپر کی خواتین بریسٹ کینسر رسک کا شکار ہیں جبکہ پاکستان میں 35 سے 45 سال کے درمیان کی خواتین بریسٹ کینسر کا زیادہ شکار ہورہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بریسٹ کینسر کی وجوہات میں ایسٹروجن اور پروجیسٹرون ہارمونز کی زیادتی بھی شامل ہے، یہ دونوں ہارمونز خواتین کی تولیدی صحت سے متعلق ہیں، مینسٹروئل سائیکل کی باقاعدگی کے لیے لی جانے والی اور مانع حمل ادویات سے ان ہارمونز کی مقدار بڑھ جاتی ہے اور یہ بریسٹ کینسر کا سبب بن سکتے ہیں۔

علاوہ ازیں موٹاپا، بہت زیادہ چکنائی والے کھانے اور جنک فوڈ کا بہت زیادہ استعمال بھی خطرناک ہیں، ہم اگر یہ سب نہ بھی کھائیں اور صحت مند غذائیں کھائیں، تب بھی فصلوں پر کیمیکل فرٹیلائزر، کیڑے مار ادویات کا استعمال، دودھ میں استعمال کیے جانے والے کیمیکل اور پھلوں پر کیے جانے والے اسپرے مختلف اقسام کے کینسرز کا سبب بن سکتے ہیں۔

ڈاکٹر عندلیب کا کہنا تھا کہ فیملی ہسٹری بھی اس کا ایک سبب ہے، اگر خاندان میں کسی کو بریسٹ کینسر ہوا ہو تو اس خاندان کی تمام خواتین کو بہت محتاط رہنے اور باقاعدگی سے بریسٹ کینسر اسکریننگ کروانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ بریسٹ کینسر کی ابتدائی علامت چھاتی میں کسی بھی قسم کی گلٹی محسوس ہونا ہے، یہ عموماً شروع میں بہت بے ضرر ہوتی ہے اور کوئی تکلیف نہیں دیتی لہٰذا خاصے عرصے تک اس کا علم نہیں ہوتا۔

اس کے علاوہ چھاتی کی ساخت میں کوئی بھی تبدیلی محسوس ہونا، جلد کا سخت ہوجانا، جھریاں یا گڑھے بننا بھی اس کی علامات ہیں اور ایسی صورت میں فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیئے۔

سیلف ایگزام کیسے کریں؟

ڈاکٹر عندلیب کا کہنا تھا کہ خواتین مہینے میں ایک بار خود اپنے آپ کو چیک کریں۔

اس کے لیے ماہواری سائیکل ختم ہونے کے 3 سے 4 دن بعد کا وقت بہترین ہے، ہاتھ سے چھو کر چھاتی اور بغل کو چیک کریں، کہیں بھی کوئی ابھار، تکلیف یا گلٹی محسوس ہو تو اسے توجہ کی ضرورت ہے۔

آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر دیکھیں، دونوں چھاتیوں کی شکل، رنگ یا جلد میں فرق یا تبدیلی۔ کسی ایک یا دونوں چھاتیوں میں کھنچاؤ، جلد پہ جھریاں، یا گڑھے۔ نپل کا اندر کی طرف جانا، نپل پہ خارش، سرخی یا کھنچاؤ۔ نپل سے مواد بہنا بھی اس کی علامت ہوسکتی ہے۔

یہ وہ علامات ہیں جو گھر میں چیک کرنے کے دوران نظر میں آسکتی ہیں جس کے بعد بریسٹ ڈاکٹر کے پاس جایا جائے اور اس کا تجویز کردہ الٹرا ساؤنڈ یا میمو گرام کروایا جائے تاکہ حتمی صورتحال معلوم ہوسکے۔

بریسٹ میں ہونے والی تمام گلٹیوں کا کینسر زدہ ہونا ضروری نہیں، یہ عام دواؤں یا معمولی سرجری سے بھی ٹھیک ہوسکتی ہیں لیکن اس حوالے سے حتمی فیصلہ اس مرض کا ڈاکٹر ہی کرے گا جو تمام ضروری ٹیسٹس کے بعد واضح نتیجے پر پہنچے گا۔

کیا بریسٹ کینسر سے بچاؤ ممکن ہے؟

ڈاکٹر عندلیب کے مطابق فعال طرز زندگی اور صحت مند غذا کا استعمال کینسر سمیت کئی بیماریوں سے تحفظ فراہم کرسکتا ہے، خواتین سادہ اور صحت مند کھانے اور ورزش یا کم از کم روزانہ چہل قدمی کو اپنا معمول بنائیں۔

تازہ سبزیوں، پھلوں اور پانی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں۔

باقاعدگی سے سیلف ایگزام کرتے رہیں اور کسی بھی تکلیف کو معمولی سمجھ کر نظر انداز نہ کریں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں