جھوٹے کو گھر تک پہنچانے کے نہایت آسان طریقے -
The news is by your side.

Advertisement

جھوٹے کو گھر تک پہنچانے کے نہایت آسان طریقے

جھوٹ بولنا آج کل کے دور میں نہایت عام ہوگیا ہے اور بعض اوقات جھوٹے اور سچے افراد کے درمیان یقین کرنا نہایت مشکل ہوجاتا ہے کونکہ لوگ بہت ڈھٹائی اور خود اعتمادی کے ساتھ جھوٹ بولتے ہیں۔

لیکن ابھی بھی جھوٹے کو پہچاننے کے کچھ نہایت آسان اور مؤثر طریقے ہیں جن کے ذریعے آپ باآسانی سامنے والے شخص کے الفاظ کا جھوٹ یا سچ ہونے کا اندازہ کرسکتے ہیں۔

آج ہم وہی طریقے آپ کو بتانے جارہے ہیں۔


اپنا نام نہ لینا

جھوٹے شخص سے کسی چیز کے بارے میں دریافت کیا جائے تو وہ کوشش کرتا ہے کہ اپنا نام نہ لے، اس کی جگہ وہ چیزوں کو ایسے بیان کرتا ہے جیسے وہ اتفاقاً ہوگئیں یا کسی اور نے انہیں انجام دیا۔

مثال

کچن میں کوئی برتن ٹوٹ جائے اور جو شخص اس پر سب سے زیادہ شور شرابہ کرے، کہ ’یہ ٹوٹ گیا ہے، اسے کس نے توڑا‘، یا ’مجھے یہ برتن ٹوٹا ہوا ملا‘تو یقیناً برتن اسی کے ہاتھوں ٹوٹا ہے۔

سچ بولنے والا شخص معذرت خواہانہ انداز میں اعتراف کرلے گا کہ یہ برتن اس کے ہاتھ سے ٹوٹا۔


تلخ انداز میں تاویل دینا

جھوٹا شخص کسی غلطی کے لیے جھوٹی اور تلخ تاویلیں دے گا۔

مثال

اگر کسی شخص کو کسی جگہ پر دیر سے پہنچنے کی وجہ سے فون کیا جائے اور وہ غصے میں کہے، ’میں یہاں کچھ بیوقوفوں کی وجہ سے واہیات ٹریفک جام میں پھنسا ہوا ہوں‘، تو اس کا مطلب ہے کہ یہ صرف اس کا بہانہ ہے۔

سچ بولنے والا شخص دھیمے لہجے میں بتا دے گا کہ وہ ٹریفک جام میں پھنسا ہوا ہے اور ساتھ ہی دیر سے پہنچنے پر معذرت بھی کرلے گا۔


الجھا دینے والے الفاظ

جھوٹا شخص دوسروں کو گمراہ کرنے کے لیے الجھانے والے لفظ ادا کرے گا اور بات کو بنا کر خود کو معصوم ثابت کرنے کی کوشش کرے گا، لیکن سچا شخص باآسانی حقیقت کا اعتراف کرلے گا۔

مثال

کسی مجرم کو پہچاننے کے لیے اگر کوئی شخص مجرم کو دیکھتے ہی غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہے، ’میں انہیں نہیں جانتا، کیا آپ کو لگتا ہے میں ان جیسے جرائم پیشہ افراد کو جانتا ہوں گا؟‘ تو قوی امکان ہے کہ وہ مجرموں کو پہچانتا ہو۔

اس کے برعکس سچا شخص معمول کے سے انداز میں کہہ دے گا کہ وہ ان مجرمان کو نہیں جانتا۔


سچے انسان کی سیدھی وجوہات

جھوٹا شخص کسی آسان سے معاملے کے بارے میں ’میں نہیں جانتا‘ کہہ کر اپنی جان چھڑا لے گا۔ سچا شخص کھلے دل سے اپنی غلطی کا اعتراف کرلے گا۔

مثال

ڈوپ ٹیسٹ میں ناکام ہوجانے والے اکثر کھلاڑی ٹیسٹ کو غیر معیاری کہتے ہیں، یا ان کے مطابق ان کی لاعلمی میں انہیں طاقت ور ادویات کھلائی جاتی ہیں جس کی ذمہ داری قبول کرنے سے وہ انکار کردیتے ہیں۔

ان کی جگہ سچا انسان اپنی غلطی کا اعتراف کر کے معافی کا طلبگار ہوگا۔


آنکھیں جھوٹ نہیں بولتیں

سچ بولنے والے انسان کی آنکھیں اپنے معمول کے سائز پر رہیں گی، جبکہ جھوٹے انسان کی آنکھ کی پتلیاں اس وقت پھیل جائیں گی جب وہ جھوٹ بول رہا ہوگا۔

یہی نہیں بعض جھوٹے افراد جھوٹ بولتے ہوئے ہکلانے لگتے ہیں، ان کی سانس تیز ہوجاتی ہے یا انہیں پسینہ بھی آنے لگتا ہے۔

مضمون و تصاویر بشکریہ: برائٹ سائیڈ


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں