پیر, اگست 10, 2026
اشتہار

پاکستان میں نئے صوبے کیسے بنیں گے؟ اہم تفصیلات سامنے آگئیں

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد : پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے اہم تفصیلات سامنے آگئیں ، جس میں پارلیمانی ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے صوبوں کے لیے آئین کے پانچ آرٹیکلز میں ترمیم کرنا ہوگی، کسی اسمبلی کی اب تک کی قرارداد کی کوئی اہمیت نہیں۔

تفصیلات کے مطابق ملک میں نئے صوبوں کے قیام کے قانونی و آئینی عمل سے متعلق اہم ترین تفصیلات سامنے آگئیں، ذرائع نے بتایا نیا صوبہ بنانے کے لیے سینیٹ و قومی اسمبلی اور متعلقہ صوبائی اسمبلی دونوں سے آئین میں ترمیم کی منظوری لازمی ہوگی اور دو تہائی اکثریت سے آئین میں ترمیم کرنا ہوگی۔

پارلیمانی ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبوں کے قیام کیلئے کسی اسمبلی کی اب تک کی قراردادکی کوئی اہمیت نہیں، اس کے سلسلے آئین کے 5 اہم آرٹیکلز (آرٹیکل 1، 51، 59، 106 اور 239) میں ترمیم کرنا ہوگی۔

اس کے علاوہ صوبوں کی تعداد، قومی اسمبلی، سینیٹ اور صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں کے ساتھ خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کی نئی تقسیم بھی کرنا ہوگی جبکہ نئے صوبے کے قیام کے بعد خواتین اور اقلیتوں کی نشستوں کا ازسرنو تعین کرنا ہوگا۔

آرٹیکل 239 کے تحت آئینی ترمیمی بل سب سے پہلے قومی اسمبلی یا سینیٹ میں سے کسی ایک ایوان میں پیش کیا جائے گا جبکہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں (سینیٹ اور قومی اسمبلی) سے الگ الگ دو تہائی (2/3) اکثریت سے منظوری کے بعد اس بل کو متعلقہ صوبائی اسمبلی بھیجا جائے گا۔

متعلقہ صوبائی اسمبلی کو بھی اپنے ایوان کی دو تہائی اکثریت سے اس آئینی ترمیم کو منظور کرنا ہوگا۔

تمام ایوانوں سے باقاعدہ منظوری کے بعد بل حتمی توثیق کے لیے صدرِ مملکت کو بھیجا جائے گا۔ صدر کے دستخط کے بعد ہی نئے صوبے کے عملی قیام کا آغاز ہوگا۔

پارلیمانی ذرائع نے اس بات کی بھی وضاحت کی ہے کہ نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے صوبائی اسمبلیوں سے اب تک منظور ہونے والی ماضی کی تمام قراردادوں کی کوئی آئینی یا قانونی اہمیت نہیں ہے کیونکہ نئے صوبے کا قیام صرف آئینی ترمیم کے مکمل عمل کے بعد ہی ممکن ہے۔

نیا صوبہ صرف اور صرف آئین کے متعین کردہ اس دو تہائی اکثریتی اور قانونی عمل کے بعد ہی تشکیل پائے گا۔

اہم ترین

اظہر فاروق
اظہر فاروق
اظہر فاروق اے آر وائی نیوز اسلام آباد کے ڈپٹی بیورو چیف اور سینئر صحافی ہیں، 30 سالہ صحافتی تجربہ ہے، پارلیمنٹ، وزیر اعظم ہاؤس، کابینہ اور سیاسی و پارلیمانی امور پر نظر رکھتے ہیں۔

مزید خبریں