The news is by your side.

Advertisement

تمام کتابیں، آدھی جائیداد کالج کو عطیہ کرنے والا کون تھا؟

جان ہارورڈ کو نوجوانی میں تپِ دق (ٹی بی) نے آ گھیرا۔ یہ 1638 عیسوی کی بات ہے جب ایسے کسی مرض کے لاحق ہوجانے کے بعد زندہ رہنے کی امید کرنا تو فطری اور یقینی تھا، مگر ایسا شاذ ہی ہوتا تھا۔

جان ہارورڈ کا تعلق لندن سے تھا۔ بعد میں وہ امریکا کے ایک چھوٹے سے قصبے میں جا بسا تھا۔

وہ اپنے زمانے کا نہایت مال دار اور صاحبِ جائیداد شخص تھا۔ وہ اپنے قصبے کے ایک گرجا گھر کا مہتمم بھی تھا۔ اسے علم و ادب کا شائق کہا جاتا ہے جس کے ذاتی کتب خانہ میں کئی کتابیں موجود تھیں۔

ٹی بی کے موذی مرض میں شدت آتی گئی اور اسے موت کا خوف ستانے لگا۔ اس نے لوگوں سے میل جول ترک کردیا اور گھر سے باہر نکلنا بھی بند کر دیا تھا۔

دوست احباب گھر پر اس سے ملنے آتے رہتے تھے۔ ایک روز اس کا قریبی دوست اور مقامی گرجا کے پادری اس کے گھر آئے ملنے آئے تو جان ہارورڈ نے انھیں اپنی وصیت میں کہا کہ بعد از موت اس کی ساری کتابیں اور آدھی جائیداد مقامی کالج کو دے دی جائیں۔

1638 میں ایک روز وہ دنیا سے رخصت ہو گیا اور اس کی وصیت کے مطابق کتابیں اور جائیداد کالج کو عطیہ کردی گئیں۔ اگلے برس کالج انتظامیہ نے جان ہارورڈ کے اس جذبے اور پُرخلوص مالی مدد پر متعلقہ مجلس کے فیصلے کے مطابق درس گاہ کو جان ہارورڈ سے منسوب کر دیا جو آج دنیا بھر میں جانی پہچانی جامعہ ہے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں