انسانی حقوق کے محافظین سے متعلقہ اقوام متحدہ کی قرارداد کی مخالفت باعث تشویش ہے -
The news is by your side.

Advertisement

انسانی حقوق کے محافظین سے متعلقہ اقوام متحدہ کی قرارداد کی مخالفت باعث تشویش ہے

لاہور: ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے حکومتِ پاکستان کی جانب سے انسانی حقوق کے محافظین کے کردار کو تسلیم کرنے اورانہیں تحفظ دینے کے مطالبے کی مخالفت پرتشویش کا اظہارکیا ہے۔

پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق(ایچ آرسی پی) کے لیے یہ امرانتہائی تشویشناک اور تکلیف دہ ہے کہ پاکستان نے گزشتہ ہفتہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد کی مخالفت کی ہے جس میں انسانی حقوق کے محافظین کے کردار کو تسلیم کرنے اور انہیں تحفظ دینے کامطالبہ کیاگیا تھا۔

منگل کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کمیشن نے کہا ہے کہ ایچ آر سی پی یو این۔ جنرل اسمبلی کی قرارداد ’’انسانی حقوق کے محافظین کے کردار کی اہمیت اور ان کے تحفظ کی ضرورت‘‘، کی 117ووٹوں سے منظوری کو خوش آئند قرار دیتا ہے۔ قرارداد 25نومبر کو منظور کی گئی تھی۔ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ قرارداد پر اس برس رائے شماری کروانا پڑی اور اسے اتفاق رائے سے منظور نہ کیا جاسکا جوکہ ماضی کی روایت تھی۔ علاوہ ازیں، ایچ آر سی پی کو یہ جان کر انتہائی تشویش اور دکھ ہوا کہ قرارداد کی مخالفت کرنے والے 14ممالک میں پاکستان بھی شامل ہے۔

یہ امر انتہائی پریشان کن ہے کہ قرارداد کے مخالف تمام 14ممالک افریقی وایشیائی علاقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ قرارداد کی ووٹنگ میں حصہ نہ لینے والے 40ممالک کی اکثریت کا تعلق بھی اسی علاقے سے ہے۔ اس علاقے میں انسانی حقوق کے محافظین انتہائی خطرناک حالات میں کام کرتے ہیں جن کی وجہ سے امید یہ تھی کہ ریاستیں ان کے کام میں تعاون کرنے اور ان کے تحفظ کے بارے میں پہلے سے زیادہ پُرجوش ہوں گی۔ ایسا لگتا ہے کہ حقوق کے محافظین کو افریقہ اور ایشیاء میں آنے والے دنوں میں مشکل وقت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

پاکستان کی جانب سے قرارداد کی مخالفت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سول سوسائٹی یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہے کہ انسانی حقوق کے محافظین نے ایسا کونسا کام کیا ہے جس کی بدولت ان کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک کیا جارہا ہے؟ بدقسمتی کی بات ہے کہ حکومت سول سوسائٹی کو اپنے حریف کے طور پر دیکھنا چاہتی ہے۔ سول سوسائٹی عوام کے حقوق کی نگہبانی کے کردار سے بھی کبھی دستبردار نہیں ہوسکتی کیونکہ یہ حق ریاست کی جانب سے دی جانے والی رعایت کے زمرے میں نہیں آتا بلکہ ریاست کے ساتھ شہریوں کے معاہدہ عمرانی کی بدولت ملنے والا استحقاق ہے۔

ایچ آر سی پی عوام کے اس حق کی بھی تائید کرتا ہے کہ انہیں پارلیمان کے ذریعے وضاحت فراہم کی جائے کہ حکومت نے صحافیوں، وکلاء اور سیاسی وسماجی کارکنوں سمیت انسانی حقوق کے محافظین کے تحفظ کی ضرورت سے انکار کیوں کیا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں