The news is by your side.

Advertisement

سپریم کورٹ میں حدیبیہ پیپرزملزکیس کی سماعت کل تک ملتوی

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے حدیبیہ پیپرز ملز کیس کی سماعت کل 11 بجے تک ملتوی کردی، عدالت نے نیب سے جعلی بینک اکاؤنٹس سے متعلق تفصیلات طلب کرلیں۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ جسٹس مشیرعالم کی سربراہی میں شریف خاندان کے خلاف حدیبیہ پیپرزملز کیس کی سماعت کی۔

عدالت عظمیٰ میں سماعت کے آغاز پرجسٹس مشیر عالم نے ریماکس دیے کہ جس بنیاد پرسماعت ملتوی کرانا چاہتے ہیں یہ کوئی نکتہ نہیں ہے۔

جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے ریماکس دیے کہ کیوں نہ آپ کےخلاف توہین عدالت کی کارروائی کریں، ہمارے لیے ہر کیس ہائی پروفائل ہے۔

جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے ریماکس دیے کہ عدالت کا مذاق نہ اڑائیں۔

ڈپٹی چیئرمین نیب امتیاز تاجوربھی سپریم کورٹ میں پیش ہوئے جبکہ نیب کے پراسیکیوٹرعمران الحق دلائل دے رہے ہیں۔

جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے ریماکس دیے کہ کیا ملزم پر اگست 2007 سے پہلے ٹرائل چلا جس پر نیب پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ ملزم پاکستان میں نہیں تھا۔

نیب پراسیکیوٹرنے کہا کہ ملزم کے پاکستان آنے کا انتظار کرتے رہے جس پر جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے کہا کہ کیا ملزم کو پا کستان آنے سے روکا گیا۔

جسٹس فائزعیسیٰ نے کہا کہ کیا حکومت نے روکا، حکومت مزاحمت کر رہی تھی، نیب پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ نہیں حکومت نے نہیں روکا تھا۔

جسٹس فائزعیسیٰ نے کہا کہ نیب نے 2000 میں ریفرنس فائل کیا، ملزم 2007 میں واپس آیا اورابھی تک آپ نے کچھ نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ آپ ایک دستخط کے لیے 2 سال پھنسے رہے جس پر پراسیکیوٹر نیب نے جواب دیا کہ لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی جس پرا سٹے آرڈر دیا گیا۔

عمران الحق نے کہا کہ درخواست 17 اکتوبر 2011 میں دائر کی گئی، جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ ہمارا سوال ہے کہ معاملہ سرد خانے میں کیوں رکھاگیا؟۔

جسٹس مشیرعالم نے ریماکس دیے کہ کیا ملزمان کراچی میں زیرحراست تھے، جسٹس قاضی فائز نے سوال کیا کہ کیا اٹک قلعےمیں عدالت بھی ہے۔

جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ یہ کیس اٹک قلعہ میں کیوں چلایا گیا کچھ وجوہات ہوں گی جس پر نیب کے وکیل نے کہا کہ وجوہات میرے علم میں نہیں ہیں۔

جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ کوئی حکم نامہ ہوگا جس کے تحت کیس جیل میں چلایا گیا ہوگا، ہارون پاشا کوبری کیا گیا لیکن وجوہات نہیں لکھیں، اس وقت پاکستان کوکون سی حکومت چلارہی تھی۔

عمران الحق نے جواب دیا کہ اس وقت چیف ایگزیکٹوپرویزمشرف تھے، جسٹس مشیرعالم نے کہا کہ ملزم اٹک میں تھا تو طیارہ ہائی جیکنگ کیس کراچی میں کیسے چلا۔

جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے کہا کہ کیا جلاوطنی کی کوئی قانونی حیثیت ہے، مفرور کا تو سنا تھا جلا وطنی کا حکم کیسا ہے؟۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی جلاوطنی کا حکم کس نے دیا، نیب کے وکیل عمران الحق نے جواب دیا کہ معاہدے کے تحت نواز شریف کو باہر بھیجا گیا۔

نیب کے وکیل نے کہا کہ نواز شریف خود ملک سے باہر گئے تھے، جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے ریماکس دیے کہ خود باہر گئے تھے تو مفرور کی کارروائی ہونی چاہیے تھی۔

جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے کہا کہ اس کیس کے اندر نئے قواعد بنائے گئے، جسٹس مشیر عالم نے ریماکس دیے کہ کیا کل حکومت کسی دوسرے ملزم کو معاہدہ کر کے باہر جانے دے گی۔

جسٹس قاضی فائز نے ریما کس دیے کہ کیا نیب نے جلاوطنی کی سہولت کار ی پر کارروائی کی، عمران الحق نے جواب دیا کہ نواز شریف جیل کی کسٹڈی میں تھے۔

نیب کے وکیل نے کہا کہ نوازشریف سپریم کورٹ کے حکم کے بعد ملک میں واپس آئے، جسٹس قاضی فائزعیسی نے کہا کہ اگرنوازشریف خود گئے تھے توواپسی کے لیے درخواست نہ دینا پڑتی۔

جسٹس مشیرعالم نے کہا کہ ملزمان کی وطن واپسی پرگرفتارکیوں نہیں کیا گیا، عمران الحق نے جواب دیا کہ کیس چلنے کے بعد عدالت ہی گرفتاری کا حکم دے سکتی تھی۔

جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے کہا کہ اصل ریفرنس کیا تھا، شکایت کس کی تھی، جسٹس مشیرعالم نے کہا کہ ملزمان کی جانب سے دباؤ کیسے ہوا اس پردلائل دیں۔

جسٹس مشیرعالم نے ریماکس دیے کہ پہلے کیس کودوبارہ کھولنے پردلائل دیں پھرمیرٹ پر دیں، نیب کے وکیل عمران الحق نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پاناماکیس میں سپریم کورٹ نے حدیبیہ کا تعلق کہا ہے۔

جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ نیب موقف کے مستقبل میں سنجیدہ نتائج نکلیں گے، کیا یہ ایک خطرناک مثال نہیں ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ پاناما نہ ہوتا توپھرکیا آپ نے کچھ نہیں کرنا تھا، پاناما فیصلے کاآپریٹوحصہ پڑھیں۔

جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے کہا کہ پانامافیصلےمیں حدیبیہ سے متعلق کچھ نہیں کہا گیا، لکھا گیا ہے جب نیب اپیل دائرکرے تودیکھا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اگرسپریم کورٹ نے حکم دیا توہم سماعت کیوں کررہے ہیں، آپ اقلیتی فیصلے کا حوالہ دے رہے ہیں۔

جسٹس مشیرعالم نے ریماکس دیے کہ اقلیتی رائے ہم پرلازمی نہیں ہے، جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ ہم آپ سےکہہ چکے ہیں اقلیتی فیصلہ نہ پڑھیں۔

عدالت نے نیب سے جعلی بینک اکاؤنٹس سے متعلق تفصیلات طلب کرتے ہوئے سوال کیا ہے کہ اکاؤنٹس کھلوانےکے لیے کون گیا تھا؟ منیجرنے کسی کے کہنے پرکسی اورکے نام پراکاؤنٹس کیسے کھولے۔

سپریم کورٹ نے نیب سے سوال کیا کہ کیا بینک منیجرکوبھی ملزم بنایا گیا ہے، عدالت نے نیب کو ہدایت کی کہ کل سوالات کےجوابات پیش کریں۔

خیال رہے کہ نیب کی جانب سے دو روز قبل سپریم کورٹ میں حدیبیہ کیس کے حتمی ریفرنس کے ساتھ ساتھ جے آئی ٹی رپورٹ کی جلد 8 اے کی عبوری نقل پیش کی گئی جس میں حدیبیہ ریفرنس کی نقل بھی شامل تھی۔


حدیبیہ پیپرزملز کیس: سپریم کورٹ نےنیب سےتمام ریکارڈ طلب کرلیا


نیب نے احتساب عدالت کی جانب سے سنے گئے حدیبیہ ریفرنس کا ریکارڈ بھی عدالت میں جمع کرایا اور ساتھ ہی چیئرمین نیب کی تقرری کا طریقہ کار اور 1999 سے اب تک ہونے والے تمام چیئرمینز کی تقررری کی فہرست جمع کرائی۔

سپریم کورٹ میں نیب نے نوازشریف کے وزیراعظم رہنے اور پرویز مشرف کی جانب سے ان کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد کی ٹائم لائن بھی جمع کرائی۔

یاد رہے کہ لاہورہائی کورٹ نے 2014 میں تکنیکی بنیاد پرحدیبیہ پیپرز ملز ریفرنس کالعدم قراردیا تھا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں