The news is by your side.

Advertisement

برطانیہ: پناہ گزین شامی بہن بھائیوں پر اسکول میں نسل پرستوں کا حملہ

لندن : برطانیہ میں علم کے حصول کے لیے کوشاں شامی بہن بھائیوں کو نسلی تعصب کی بنیاد پر اسکول میں تشدد کا نشانہ بنانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔

تفصیلات کے مطابق برطانیہ کی کاؤنٹی یارکشائر کے ایک اسکول میں شامی پناہی گزین لڑکے اور لڑکی کی ویڈیو سامنے آگئی جس میں 15 سالہ لڑکے پر اسکول کے متعصب طالب علم کی جانب سے زمین پر گرا کر تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ شامی پناہ گزین لڑکے کو نسلی تعصب کی بنیاد پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ نوجوان کا ایک ہاتھ پہلے سے ہی زخمی تھا۔

مقامی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ پولیس نے تشدد کرنے والے 16 سالہ لڑکے پر تشدد کا مقدمہ درج کرلیا ہے۔

سوشل میڈیا پر مذکورہ کاؤنٹی میں واقع اسی اسکول کی وائرل ہونے والی ایک اور ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ متاثرہ شامی بچے کی بہن پر بھی کچھ شر پسند برطانوی لڑکیوں نے حملہ کرکے زدوکوب کیا۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ متاثرہ شامی لڑکی کو پیچھے ایک متعصب لڑکی نے دھکا دیا اور زمین پر گرا دیا۔

برطانوی پولیس کا کہنا ہے کہ اس واقعے کی اس سے پہلے کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی لیکن ہم متاثرہ لڑکی کے اہل خانہ کے ساتھ تعاون کریں گے اور ان کی حمایت جاری رکھیں گے۔

پہلی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک متعصب لڑکا شامی بچے کو گلے سے پکڑ کر زمین پر گرا دیتا ہے اور بوتل سے اس کے چہرے پر پانی ڈالتے ہوئے کہتا ہے کہ ’میں تمہیں ڈوبو دوں گا‘۔

پولیس کا کہنا ہے کہ افسوس ناک واقعے اسکول میں ہونے والے دوہپر کے کھانے کے لیے ہونے والے وقفے کے دوران پیش آئے تھے۔

متاثرہ شاہم بچے کے والد کا کہنا ہے کہ میرا بیٹا راتوں کو اچانک یہ کہتے ہوئے جاگ جاتا ہے کہ ’مجھے مت مارو مجھے مت مارو‘۔

برطانوی میڈیا سے گفتگو میں 15 سالہ شامی بچے کا کہنا تھا کہ 2 سال قبل والدین کے ہمراہ برطانیہ آیا تھا آئے روز ہمیں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، اب تو رات کو بھی ڈر لگتا ہے اور اُٹھ کر روتا ہوں۔

برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر چندہ جمع کرنے والے پیج ’گو فنڈ ریزنگ‘ نے 15 سالہ متاثرہ شامی بچے اور اس کے اہل خانہ کی مدد کے لیے چندہ جمع کرنے کا آغاز کیا اور 1 لاکھ پاؤنڈ جمع کیے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں