The news is by your side.

Advertisement

خلائی مخلوق کی زندگی دیکھنے کی جستجو، ٹیلی اسکوپ مکمل تباہ

پورٹو ریکو: نصف صدی سے زائد فلکیاتی اجسام کی دریافت میں کلیدی کردار ادا کرنے والی ریڈیو دوربین کا دور اپنے اختتام کو پہنچا۔

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق شمال مشرقی کیریبین ریاست میں واقع تجربہ گاہ میں دوربین کا نو سو ٹن ریسیور چار سو فٹ کی بلندی سے ریفلیکٹر ڈش پر آگرا، یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ جب ریڈیو دوربین کو نقصان پہنچا ہے۔

اس تباہی نے بہت سے سائنس دانوں کو دنگ کر دیا ہے جنہوں نے حال ہی میں دنیا کی دوسری سب سے بڑی ریڈیو دوربین پر انحصار کیا تھا، چھبیس سال سے آریسیبو آبزرویٹری سے وابستہ سائنسدان کا کہنا تھا کہ مجھے یہ ایک افراتفری کی طرح لگ رہا تھا، میں ذاتی طور پر چیخ رہا تھا ، میرے پاس اظہار کے الفاظ نہیں تھے، بس یہ بہت گہرا اور خوفناک احساس ہے۔تحقیق دان فریڈمین نے اپنے گھر کے قریب ایک چھوٹی پہاڑی پر چڑھ کر اپنے شکوک و شبہات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ایسا لگ رہا تھا جسے ہوا میں دھول کا ایک بادل لٹکا ہوا تھا ، جہاں ایک بار یہ ہم نے ڈھانچہ کھڑا تھا ، یہ اس وقت ممکن ہوا تھا جب کچھ سائنسدانوں کی امید ختم ہوگئی تھی کہ اب اس دوربین کی مرمت نہیں کی جاسکتی۔

پورٹو ریکو یونیورسٹی کے ماہر فلکیات اور پروفیسر کارمین کا کہنا تھا کہ میرے لئے یہ بہت بڑا نقصان ہے، یہ میری زندگی کا ایک باب تھا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق نومبر کے اوائل میں ریڈیو دوربین کی مین کیبل ایک بار ٹوٹی، اس بار تار کے ٹوٹنے سے دوربین کے اسٹرکچر کو بڑا نقصان پہنچا، اس کی مرمت کے آغاز سے کچھ دن پہلے ہی اس دوربین کے ڈیٹیکٹر کی وہ بڑی تار بھی ٹوٹ گئی جس سے اس کا ڈیٹیکٹر پلیٹ فارم معلق تھا، اس سے نہ صرف ڈیٹیکٹر اور ڈش کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا بلکہ اب انجینیئرز کا کہنا ہے کہ اس تار کے ٹوٹ جانے سے دوربین کا پورے کا پورا اسٹرکچر اس قدر کمزور ہو گیا ہے کہ یہ کسی بھی وقت مکمل طور پر منہدم ہو سکتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ جب ریڈیو دوربین کو نقصان پہنچا ہے، اس سے قبل اگست میں سمندری طوفان کے نتیجے میں اس کے ڈیٹیکٹر کی تقریبا تین سو پانچ میٹر تار ٹوٹ گئی تھی اور ڈیٹیکٹر کا کچھ حصہ ڈش پر آن گرا تھا، جس کے باعث ڈیٹیکٹر اور ڈش دونوں کو شدید نقصان پہنچا تھا، واقعے کے بعد امریکی نیشنل سائنس فاؤنڈیشن نے اس رصدگاہ کو عارضی طور پر بند کر دیا تھا، تاہم سائنس دانوں اور انجینیئرز کی محنت رنگ لائی اور دوربین کو مرمت کے بعد اصلی حالت میں بحال کردیا گیا تھا۔واضح رہے کہ یہ دوربین انیس سو ساٹھ کی دہائی میں محکمہ دفاع کے فنڈز سے بنائی گئی تھی، ان ستاون سالوں کے درمیان اینٹی بیلسٹک میزائل کے دفاع سمیت سمندری طوفان، موسم کی سختی سمیت حالیہ زلزلوں کا سامنا کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  چین نے چاند پر تحقیق سے متعلق اہم سنگ میل عبور کرلیا

اس دوربین کے استعمال سے زمین کے گرد موجود سیارچوں کا سراغ لگانے اور ان پر تحقیق کی گئی، جس کے باعث دوربین کو نوبل انعام سے نوازا گیا،ا سکے علاوہ اس دوربین نوے ہزار سائنسی طلبہ کو سالانہ طور پر اپنی جانب راغب کرتی تھی۔

اپنی منفرد ساخت کی وجہ سے یہ دوربین دنیا بھر میں مقبول ہے اور اس لوکیشن پر کئی فلموں کی شوٹنگ کی جا چکی ہے، ان میں جیمز بانڈ کی فلم گولڈ آئی (1995) اور کارل سیگن کے ناول پر مبنی فلم ‘کانٹیکٹ’ (1997) شامل ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں