The news is by your side.

Advertisement

کراچی میں کھدائی کے دوران انسانی ہڈیاں برآمد

کراچی : کراچی کے علاقے ناظم آباد میں کھدائی کے دوران انسانی ہڈیاں برآمد ہوئیں ، پولیس کا کہنا ہے کہ اندازہ ہےکہ ہڈیاں کئی سال قبل دفنائی گئیں ، مکمل تفتیش کے بعد ہی اصل وجہ کا تعین ہوسکے گا۔

تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے ناظم آباد میں انوبھائی پارک کےقریب کھدائی کے دوران انسانی ہڈیاں برآمد ہوئیں ، پولیس کا کہنا ہے کہ ہڈیاں مختلف کپڑوں میں لپیٹ کر دفنائی گئی تھیں، کھدائی کے دوران ملنے والی ہڈیاں چیک کرا رہے ہیں، اندازہ ہےکہ ہڈیاں کئی سال قبل دفنائی گئیں۔

،پولیس کے مطابق پہلےمختلف آپریشن اور سرجری کے دوران انسانی ہڈیوں کو الگ کیاجاتا تھا، شوگرکے مریضوں کے جسمانی حصوں کوبھی کاٹ کر الگ کیا جاتاہے اور ان ہڈیوں کو مختلف جگہوں پر دفنادیا جاتا تھا ، چندسال سے ہڈیوں کو جدید طریقے سے ختم کردیا جاتا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات شروع کردیں ہیں ، برآمد ہونے والی ہڈیاں نجی اسپتال کی جانب سے دفنائی گئی تھیں، مکمل تفتیش کے بعد ہی اصل وجہ کا تعین ہوسکے گا۔

دوسری جانب انسانی ہڈیاں ملنے کے معاملے پر ایڈمنسٹریٹر نجی اسپتال نے پولیس کے موقف کی تردید کرتے ہوئے کہا ہڈیاں اس طرح دفن کرناہمارا طریقہ کار نہیں، ہم کٹنے والے اعضا جمع نہیں کرتے، جو اعضا کاٹے جاتے ہیں وہ مریض کےلواحقین ساتھ لےجاتےہیں۔

اسپتال انتظامیہ کا کہنا تھا کہ لواحقین خودہی اعضالےجاکرقبرستان میں دفن کرتےہیں، کوئی نہ لے کرجائےتو اسپتال عملہ قریبی قبرستان میں دفن کرتا ہےْ

وزیر صحت سندھ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسپتالوں میں ہڈیوں کو دفن کرنے کی پریکٹسز ماضی میں ہوا کرتی تھیں، اب اسپتال یہ پریکٹسز نہیں کرتے، موجودہ دور میں میڈیکل اسٹوڈنٹس مصنوعی ڈیڈ باڈیز پر پریکٹیکل کرتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں