انسانی جسم حیران کن صلاحیتوں کا مجموعہ -
The news is by your side.

Advertisement

انسانی جسم حیران کن صلاحیتوں کا مجموعہ

انسان کو اللہ تعالیٰ نے اشرف المخلوقات کا درجہ عطا کیا ہے۔ یہ اپنے دماغ اور جسم کو ایسے ایسے طریقوں سے استعمال کرسکتا ہے جس کا آپ تصور بھی نہیں کرسکتے۔

ایک عام انسان زندگی بھر میں اپنے دماغ کا صرف 1 یا 2 فیصد حصہ استعمال کرتا ہے۔ جن افراد کا شمار ذہین ترین افراد میں ہوتا ہے ان کے دماغ کے صرف 8 سے 10 فیصد سے زائد خلیات متحرک ہوتے ہیں جس کی بنا پر وہ سائنس دان بنتے ہیں یا نئی دریافتیں کرتے ہیں۔

دنیا میں آج تک کوئی بھی شخص اپنے دماغ کا 100 فیصد حصہ استعمال نہیں کرسکا۔ معروف سائنس دان آئن اسٹائن کے لیے کہا جاتا ہے کہ ان کے دماغ کے 13 فیصد خلیات متحرک تھے۔

بعض افراد ایسے بھی ہوتے ہیں جن کا دماغ بہت کم عمری میں اس قدر کام کرنے لگتا ہے کہ ان کا جسم ان کا ساتھ نہیں دے پاتا اور وہ شخص موت کا شکار ہوجاتا ہے۔

مزید پڑھیں: دماغی کارکردگی میں اضافہ کے لیے ورزشیں

ایسی ہی ایک مثال فخر پاکستان ارفع کریم کی بھی ہے جس نے صرف 9 سال کی عمر میں دنیا کی کم عمر ترین مائیکرو سافٹ سرٹیفائڈ پروفیشنل ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔

کہا جاتا ہے کہ اس کا دماغ اس قدر تیز رفتار اور متحرک تھا کہ اس کا ننھا جسم دماغ کے اس بوجھ کو برداشت نہیں کر پایا اور صرف 17 سال کی عمر میں ارفع دل کے اچانک دورہ پڑنے کے بعد دنیا سے ناتا توڑ بیٹھی۔

اسی طرح ہمارا جسم بھی ہمارے دماغ کے تابع ہے۔ کیا آپ اپنے دونوں ہاتھوں سے بیک وقت کام کرسکتے ہیں؟ یا پھر ہمالیہ کے پہاڑوں میں بغیر لباس کے مراقبہ کرسکتے ہیں؟

یقیناً نہیں کرسکتے لیکن دنیا میں ایسے افراد موجود ہیں جو یہ کام سر انجام دے سکتے ہیں۔ اشرف المخلوقات کا درجہ رکھنے والا انسان جسمانی طاقت و ہمت کے ایسے ایسے مظاہرے کر سکتا ہے جس کا آپ تصور بھی نہیں کرسکتے۔

زیر نظر ویڈیو میں دیکھیں کہ انسان کیا کیا کر سکتا ہے۔

بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ صوفیا اور اور اولیا کے خدا سے قریبی رابطے کے باعث ان کے دماغی خلیات اس قدر متحرک ہوجاتے ہیں کہ وہ اپنی دل کی دھڑکن کو روک سکتے ہیں۔ دل کی دھڑکن رک جانے کا مطلب سمجھتے ہیں؟ کلینکل موت واقع ہوجانا یعنی اب آپ زندہ نہیں رہے۔

لیکن ان اولیا پر خدا کی خاص رحمت ہوتی ہیں کہ ان کی پوشیدہ صلاحیتیں ابھر کر سامنے آجاتی ہیں اور وہ اپنے دل کی دھڑکن کو دوبارہ بحال کرسکتے ہیں، اسے کم یا زیادہ بھی کرسکتے ہیں۔

اسی طرح بعض افراد ماحول کے مطابق اپنے جسم کے درجہ حرارت کو کم یا زیادہ کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔

گویا انسان چاہے تو کیا کچھ نہیں کرسکتا، لیکن شرط یہ ہے کہ وہ اپنی ان پوشیدہ دماغی و جسمانی صلاحیتوں کو جگائے جس کے لیے کسی استاد کا ہونا ضروری ہو۔

ذہنی یا جسمانی طور پر طاقتور بننے کے لیے کسی تجربہ کار استاد کی رہنمائی از حد ضروری ہے ورنہ بغیر کسی مشورے کے کیا جانے والا کوئی بھی کام الٹا آپ کے گلے میں پڑسکتا ہے اور آپ کو ذہنی یا جسمانی معذوری کا شکار بھی بنا سکتا ہے۔

یاد رکھیں اپنے جسم کی پوشیدہ صلاحیتوں کو استعمال کرنے کے لیے آپ کو یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ آپ کا دماغ یا جسم کس حد تک کتنا بوجھ اٹھا سکتا ہے جس کا اندازہ اس میدان کا ماہر کوئی استاد ہی بتا سکتا ہے۔

بعض افراد جسم کو بھاری بھرکم بنانے کے لیے بغیر کسی رہنمائی کے اچانک بے تحاشہ ورزشیں یا مشکل کام کرنا شروع کردیتے ہیں جس کے نتیجے میں وہ معذور ہو سکتے ہیں، کوما میں جاسکتے ہیں، اور ہلاک بھی ہوسکتے ہیں۔


انتباہ: یہ مضمون قارئین کی معلومات میں اضافے کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ مضمون میں دی گئی کسی بھی تجویز پر عمل کرنے سے قبل اپنے معالج سے مشورہ اور ہدایت ضرور حاصل کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں