The news is by your side.

Advertisement

انسانی قد کے برابر پینگوئن کی باقیات دریافت

نیوزی لینڈ میں کچھ روز قبل انسانی قد کے نصف ایک طویل القامت طوطے کی باقیات دریافت کی گئی تھیں، اب وہیں سے ایک ایسے پینگوئن کی باقیات دریافت ہوئی ہیں جو انسان جتنا قد رکھتا تھا۔

شمالی کنٹربری میں واقع ایک مقام سے دریافت ہونے والی ان باقیات سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس قدیم پینگوئن کی قامت 1.6 میٹر یعنی 5 فٹ 3 انچ تھی جبکہ اس کا وزن 80 کلو گرام تک ہوتا تھا۔ ماہرین کے مطابق یہ پینگوئن ساڑھے 6 کروڑ سے ساڑھے 5 کروڑ سال قبل کے درمیانی عرصے میں زمین پر موجود تھے۔

اس پرندے کو مونسٹر پینگوئن کا نام دیا گیا ہے اور اسے نیوزی لینڈ کے معدوم ہوجانے والے قوی الجثہ جانداروں کی فہرست میں شامل کرلیا گیا ہے جس میں پہلے سے ہی طوطے، عقاب، چمگادڑ اور کچھ اقسام کے پودے
شامل ہیں۔

کنٹربری میوزیم کے نیچرل ہسٹری شعبے کے سربراہ پال اسکو فیلڈ کا کہنا ہے کہ یہ پینگوئن اب تک معلوم تمام پینگوئن کی اقسام میں سب سے بڑے ہیں۔

ماہرین کے مطابق قدیم زمانوں میں پینگوئن کی جسامت عموماً بڑی ہوا کرتی تھی، موجودہ پینگوئن میں سب سے طویل القامت کنگ پینگوئن ہوتا ہے جس کی قامت 1.2 میٹر ہوتی ہے۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ بڑے پینگوئن کیوں معدوم ہوئے، شاید آبی جانوروں کی تعداد میں اضافے سے ان کے لیے مسابقت بڑھ گئی تھی۔

اس وقت جائنٹ کچھوے اور شارکس وغیرہ کا بھی ارتقا ہونا شروع ہوگیا تھا۔

مونسٹر پینگوئن کی یہ باقیات گزشتہ سال دریافت کی گئی تھیں اور اس کی جانچ کی جارہی تھی۔

یاد رہے کہ بڑھتے ہوئے موسمی تغیرات کے باعث پینگوئن کی نسل کو معدومی کے خطرات لاحق ہیں، ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ 2060 تک پینگوئنز کی آبادی میں 20 فیصد کمی واقع ہوسکتی ہے جبکہ اس صدی کے آخر تک یہ معصوم پرندہ اپنے گھر کے چھن جانے کے باعث مکمل طور پر معدوم ہوسکتا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں