The news is by your side.

Advertisement

بھارت میں ہاتھوں سے انتہائی کراہیت والا کام، دیکھنے والوں کو گھن آگئی

نئی دہلی : یوں تو بھارت میں غربت کے باعث آج بھی کئی دیہی علاقوں میں بیت الخلاء کی سہولت موجود نہیں اور مردو خواتین رفع حاجت کیلئے کھلے مقامات کا رخ کرتے ہیں۔

یہی نہیں شہروں میں بھی  رفع حاجت کیلئے استعمال ہونے والی نالیوں اور اسیپٹک ٹینکوں میں موجود غلاظت کی صفائی کا کام آج بھی ہاتھوں سے لیا جاتا ہے جسے دیکھنے والے کو بھی گھن آجائے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق ملک میں انسانی غلاظت کو ہاتھوں سے صاف کرنے پر قانوناً پابندی کے باوجود مختلف علاقوں میں یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ اس کام میں اب تک سینکڑوں افراد کی جانیں جاچکی ہیں۔ یہ کام ‘نچلی ذات کے” دلت ” ہندوؤں سے کرایا جاتا ہے۔

بھارتی حکومت نے گزشتہ ماہ یہ دعوٰی کیا تھا کہ ہاتھوں سے انسانی فضلہ کو صاف کرنے کی وجہ سے ملک میں کوئی موت واقع نہیں ہوئی لیکن حکومت کو اس بیان پر سماجی کارکنان کی سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

بعد ازاں سرکاری عہدیداران نے اعتراف کیا کہ نالوں اور اسیپٹک ٹینکوں کی صفائی کے دوران ملک بھر میں 941صفائی مزدور ہلاک ہوگئے۔

ہاتھوں سے غلاظتوں کی صفائی کے رواج کو ختم کرنے کے لیے سرگرم تنظیم کے رہنما کا کہنا ہے کہ صرف گزشتہ چار برسوں کے دوران ہی 472 صفائی مزدوروں کی موت ہوگئی جبکہ ہاتھوں سے فضلہ صاف کرنے کی وجہ سے رواں سال اب تک 26 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔

بھارت نے سن 2013 میں ایک قانون بنا کر ہاتھوں کے ذریعہ فضلہ کی صفائی کرنے پر پابندی عائد کردی تھی۔ تاہم یہ قانون اب تک عملاً نافذ نہیں ہوسکا ہے اور بھارت کے مختلف حصوں میں اب بھی ہاتھوں سے انسانی فضلہ کی صفائی کا کام جاری ہے۔

ورلڈ بینک، ڈبلیو ایچ او، انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن(آئی ایل او) اور واٹر ایڈ کی طرف سے مشترکہ طورپر کرائی گئی ایک تحقیق کے مطابق صفائی کرنے والے ان مزدوروں کو بہت معمولی اجرت ملتی ہے۔

حقوق انسانی کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کی ایک رپورٹ کے مطابق جولوگ غلاظت اٹھانے کا کام کرنے سے منع کرتے ہیں انہیں اعلٰی ذات کے لوگوں کی طرف سے دھمکی اور زیادتی کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔

واضح رہے کہ ہاتھوں سے فضلے کی صفائی کرنے والوں کوزہریلی گیسوں کی وجہ سے دم گھٹ کر ہلاک ہوجانے کا خطرہ رہتا ہے وہ اکثر ہیضہ، یرقان، ورم جگر، میننجائٹس، جلدی بیماریوں اور امراض قلب میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں