انسانی آنسو بجلی کی پیداوار میں مددگار ہیں، تحقیق human tears
The news is by your side.

Advertisement

انسانی آنسو بجلی کی پیداوار میں مددگار ہیں، تحقیق

ڈبلن: ماہرین نے انسانی آنسوؤں ، پسینے اور تھوک میں چھپا وہ پروٹین تلاش کرلیا ہے جو بجلی بنانے میں کافی مؤثر ثابت ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق آئرلینڈ کی یونیورسٹی آف لمیرک کے سائنس دانوں نے بجلی پیدا کرنے کے حوالے سے تحقیق شروع کی تو یہ بات سامنے آئی کہ انسانی آنسو، پسینے اور تھوک میں ایک خاص پروٹین چھپا ہے جو بجلی بنانے کے لیے کارآمد ہے۔

 ماہرین کے مطابق ’لائسوزائیم‘ نامی پروٹین قدرتی ماحول میں جراثیم کی خلوی دیواریں ختم کر کے انہیں ناکارہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور یہ قدرتی طور پر انسانی حفاظت کا کام کرتا ہے۔

تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ انسان کے علاوہ اس پروٹین کی وفر مقدار دودھ اور انڈے کی سفیدی میں بھی موجود ہوتی ہے جس میں پیزو الیکٹرک کی خصوصیات پائی جاتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک ایفیکٹ کے تحت کسی مادے پر دباؤ بڑھانے کے بجلی پیدا ہوتی ہے جس کی تازہ مثال ٹچ اسکرین موبائل، ایل سی ڈیز وغیرہ شامل ہیں، اس مقصد کے لیے کوارٹز کہلانی والی فلمیں استعمال کی جاتی ہیں جن کا شمار غیر نامیاتی مادوں میں ہوتا ہے۔

یونیورسٹی آف لمیرک کے ماہرین نے اس تجربے کا عملی مظاہرہ میں کیا جس میں لائسوزائیم قلموں کو پتلے شیشوں کے درمیان دبا کر ان سے بجلی پیدا کی گئی۔

واضح رہے کہ اس تحقیق کی تفصیلات ریسرچ جرنل ’’اپلائیڈ فزکس لیٹرز‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں