The news is by your side.

Advertisement

سپرہیرو ڈی این اے کے ساتھ پیدا ہونے والے تیرہ خوش قسمت افراد

آج کی دنیا میں کہ جب سپر ہیرو فلمیں باکس آفس پرسب سے زیادہ بزنس کرتی ہیں یقیناً ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں دلوں میں یہ تمنا مچلتی ہوگی کہ کاش وہ بھی ان کرداروں کی طرح ماورائی قوتوں کے حامل ہوتے، تاہم اب یہ خواہش بہت جلد حقیقت کا روپ دھارنے والی ہے۔

تحقیق دانوں کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ کچھ افراد ’سپر ہیرو ڈی این اے‘ کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں اور ان کو جینیاتی بیماریاں نہیں ہوتیں۔نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ چھ لاکھ افراد میں سے 13 افراد ایسے ہیں جن کو بیماریاں ہونی چاہیے تھی لیکن نہیں ہوئیں۔

SUPER HERO

یہ تحقیق نیچربائیو ٹیکنالوجی نامی میگزین میں شائع ہوئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بہت دلچسپ تحقیق ہے لیکن اس وقت اس کے بارے میں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔

یاد رہے کہ ہمارے ڈی این اے میں خرابی کے باعث ہمیں بیماریاں ہوتی ہیں۔ بہت سی تحقیقوں میں یہ بات سمجھنے کی کوشش کی ہے کہ لوگ بیمار کیوں ہوتے ہیں۔ لیکن اس تازہ تحقیق میں تحقیق دانوں نے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی کہ جن لوگوں کو وراثت میں بیماری ملتی ہے وہ صحت مند کیسے رہتے ہیں۔

SUPER HERO 4

تحقیق دانوں نے چھ لاکھ افراد کے ڈی این اے کی معلومات کو جانچا تو ان کو معلوم ہواکہ 13 افراد ایسے ہیں جن کو آٹھ جینیاتی بیماریوں میں سے ایک ہونی چاہیے تھی لیکن نہیں ہوئی۔

تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ان 13 افراد میں آٹھ میں سے ایک بیماری ہونے کے امکانات بہت زیادہ تھے۔

SUPER HERO 2

اکاہن سکول آف میڈیسن کے پروفیسر سٹیفن فرینڈ کا کہنا ہے ’ایسے افراد کی تلاش اور ان تک رسائی پہلا قدم ہے۔

اس تحقیق میں یہ تو معلوم ہو گیاکہ خوش قسمت ڈی این اے کے حامل وہ 13 افراد کون ہیں لیکن تحقیق دان ان افراد کو جا کر مل نہیں سکتے کیونکہ قانون کے مطابق کسی اور کو ان کے ڈی این اے تک رسائی نہیں ہونی چاہیے۔اس کا مطلب ہے کہ ان 13 افراد کو یہ نہیں معلوم کہ ان کو کیا چیز بیماریوں سے بچا رہی ہے۔

SUPER HERO 3

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں