بدھ, اپریل 22, 2026
اشتہار

ہمایوں کا مقبرہ

اشتہار

حیرت انگیز

مغل بادشاہ ہمایوں جب ہندوستان میں شاہی تخت پر بیٹھے تو ان کی عمر صرف 27 سال تھی۔

ہمایوں کی سوانح عمری میں لکھا ہے کہ بادشاہ کی موت سیڑھیاں اترتے ہوئے پھسلنے کے بعد چوٹ لگنے سے ہوئی تھی۔ سلطان زینے سے گرنے کے بعد تین روز تک تکلیف میں‌ رہے تھے۔ ہمایوں کا مقبرہ بھارت کے شہر دہلی میں واقع ہے جو بادشاہ کی بیوی نے 1562ء میں بنوایا تھا۔ یہاں‌ ہم سرسیّد احمد خان کی کتاب آثار الصنادید سے اس مقبرے سے متعلق اقتباس نقل کررہے ہیں۔

آثار الصنادید میں‌ لکھا ہے: ہمایوں کے مقبرے سے پہلے سبز برج کا ذکر ضروری ہے۔ یہ مقبرہ ہمایوں کے مقبرے کے مغرب میں لودی روڈ اور متھرا روڈ کے چوراہے پر واقع ہے۔ اب اس میں کوئی قبر نہیں ہے۔ بشیر الدین احمد نے اسے سیدوں کا برج بتایا ہے، مسلم اور ہندو آثار قدیمہ کے مطابق یہ کسی صوفی کا مقبرہ ہے۔ آر ناتھ کا بیان ہے کہ ہندوستان میں مسلم فن تعمیر کی تاریخ میں پہلی بار دو اہم خصوصیات مکمل شکل میں اس مقبرے کی تعمیر میں نظر آتی ہیں۔ یہ خصوصیات ہیں اندر سے چوکور اور باہر سے ہشت پہلو کمرہ اور اس پر بہت اونچے ڈھول پر پیاز نما گنبد….جسے تارتار گنبد کہا جاتا ہے۔

ہمایوں کا مقبرہ
۱۵۵۶ء میں ہمایوں کا انتقال ہو گیا۔ تو کچھ سال بعد اس کی بیوی حاجی بیگم نے ہمایوں کے مقبرے کی بنیا د رکھی، یہ مقبرہ مغل طرز تعمیر کی پہلی اہم عمارت ہے۔ اس کی محرابیں بہت اونچی اور نوک دار ہیں اور گنبد دہرا ہے۔ اس طرز کا گنبد ہندوستان کے اسلامی فن تعمیر کی تاریخ میں پہلی بنایا گیا۔ مقبرے کی باہری دیواروں کی آرائش نقاشی سے نہیں بلکہ لال پتھر اور سنگ مرمر سے کی گئی ہے۔ ایرانی مقبروں میں پتھروں کے بڑے بڑے ٹکڑے کاٹ کاٹ کر پچی کاری کی جاتی تھی۔ ہمایوں کے مقبرے میں اس ہی کی تقلید کی گئی ہے۔

اس مقبرے میں آرائش نے ایک نیا انداز اختیار کیا ہے۔ پوری عمارت لال پتھر سے بنائی گئی ہے۔ آرائش کے لیے رنگین کاشی کے بجائے سفید سنگ مرمر استعمال کیا گیا ہے۔ مقبرے کا گنبد سنگ مرمر سے بنایا گیا ہے اور عمارت میں سفید سنگ مرمر ہی سے پچی کاری کی گئی ہے۔

یہ گنبد اوپر سے پتلا ہے۔ ہندوستان میں اس انداز کا گنبد پہلی بار تعمیر ہوا تھا۔ ہندوستانی طرز تعمیر میں ہندسی اشکال کی ابتدا دسویں صدی عیسوی میں ہوئی تھی۔ اس فن کے بالکل ابتدائی نمونے ان جالیوں میں نظر آتے ہیں جو قاہرہ کی مسجد عبد الحکیم میں بنائی گئی تھیں۔ ہندوستان میں خاندان غلامان کی عمارتوں میں سیدھی سادی اشکال کی جالیاں ملتی ہیں۔ اس عہد میں جالیوں کا استعمال چھوٹی چھوٹی کھڑکیوں میں ہوتا تھا۔ البتہ علائی دروازے اور التمش کے مقبرے کی جالیاں خاصی ترقی یافتہ ہیں۔

جالیوں میں ہندسی اشکال کا فن مغل عہد میں اپنے عروج میں پہنچا۔ ہمایوں کے مقبرے میں پہلی بار قد آدم سے اوپر کی جالیاں لگائی گئی ہیں۔ ان میں سے بیشتر جالیاں ایک ہی پتھر سے تراشی گئی ہیں اور پھر جالیوں میں ہندسی اشکال اس طرح بنائے گئے ہیں کہ پوری جالی میں ایک انچ بھی خالی نہیں ہے اور ان ہندسی اشکال میں نظم و با قاعدگی اور تناسب ہے۔

لودی عہد میں پہلی بار مقبرے کے چاروں طرف احاطے کی دیوار بنائی گئی تھی۔ دو تین مقبرے ایسے تھے جن کے چاروں طرف باغ لگایا گیا تھا۔ یہ باغ مقبرے کی تعمیر کے بعد لگا دیے گئے تھے۔ ہمایوں کا مقبرہ ہندوستان کا وہ پہلا مقبرہ ہے، جس کی تعمیر کے منصوبے میں باغ شامل تھے، اس مقبرے کے چاروں طرف باغ لگائے۔

ہمایوں کے مقبرے کی اہمیت یہ ہے کہ یہ ہندوستان کا پہلی عمارت ہے جس کی تعمیر میں بڑی تعداد میں ایرانی معماروں نے حصہ لیا۔ اس لیے اس مقبرے کی تعمیر اور آرائش میں ایرانی طرز تعمیر کو بہت دخل ہے۔ اس مقبرے سے اس طرز تعمیر کی بنیاد پڑی جو دنیا کی چند حسین ترین عمارتوں میں شمار ہونے والے تاج محل میں عروج پر نظر آتی ہے۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں