The news is by your side.

Advertisement

ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کا کتنا خطرہ ہے؟

برلن: کرونا وائرس کے بارے میں نئی تحقیقات کیے جانے کا عمل جاری ہے، حال ہی میں ماہرین نے اس کے پھیلاؤ کے ایک اور سبب کی طرف اشارہ کیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی جگہ پر ہوا میں نمی کا زیادہ تناسب کرونا وائرس کی وبا کو پھیلنے سے روکنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، اس کے برعکس خشک ہوا والے کمرے اور بند ایئر کنڈیشنڈ عمارات اس وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں۔

جرمن اور بھارتی طبی ماہرین کی جانب سے مرتب کردہ اس تحقیقی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ اور عمارتوں کے اندر ہوا میں نمی کے زیادہ تناسب کو یقینی بنایا جائے۔

ماہرین کے مطابق ان مقامات پر ہوا میں نمی کا تناسب کم از کم 40 فیصد اور زیادہ سے زیادہ 60 فیصد ہونا چاہیئے۔

ماہرین کے مطابق کووڈ 19 کے مریض کے منہ یا ناک سے کھانسی یا چھینک کے دوران نکلنے والے ننھے قطرے نمکیات، پانی، نامیاتی اجزا اور کرونا وائرس پر مشتمل ہوتے ہیں، ہوا میں نمی کے زیادہ تناسب کی صورت میں مزید آبی بخارات ان پر جمع ہوجانے کی وجہ سے ان ننھے قطروں کا وزن بڑھ جاتا ہے اور وہ فوری طور پر زمین پر یا کسی دوسری سطح پر بیٹھ جاتے ہیں۔

اس طرح ہوا میں کم دیر تک رہنے کی وجہ سے ان کے منہ، ناک یا آنکھوں کے راستے کسی دوسرے فرد کے جسم میں داخل ہونے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ خشک ہوا اور کم درجہ حرارت کی صورت میں کووڈ 19 کے مریض کے منہ یا ناک سے نکلنے والے ننھے قطروں کا حجم مزید کم ہو جاتا ہے اور وہ زیادہ دور اور زیادہ دیر تک فضا میں رہتے ہیں جس کے نتیجے میں دوسروں کے متاثر ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

کم حجم اور وزن کے ساتھ ان قطروں میں کرونا وائرس زیادہ دیر تک ایکٹو رہ سکتا ہے۔

اسی طرح کووڈ 19 کے مریضوں کی موجودگی والے کمروں یا عمارات میں دروازے اور کھڑکیاں کھلی رکھنے سے بھی وائرس کے پھیلنے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔

اس کے علاوہ ہوا میں نمی کا تناسب کم ہونے سے ہماری ناک کے اندر رطوبت خشک ہو جاتی ہے اور ایسی صورتحال کرونا وائرس کے لئے بے حد سازگار ثابت ہوتی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں