The news is by your side.

Advertisement

کینیڈا میں ہاسٹلز سے مزید سیکڑوں بچوں کی لاشیں برآمد

اوٹاوا : کینیڈا میں ایک پرانے ہاسٹل اسکول سے مزید سیکڑوں بےنشان قبروں کی برآمدگی نے اہل علاقہ کو شدید خوف میں مبتلا کردیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق کینیڈا کے صوبے سسکاچیوان میں یہ دلخراش واقعہ پیش آیا، جہاں ایک پرانے کیتھولک ہاسٹل سے 751 قبائلی بچوں کی لاشیں ملی ہیں، جنہیں اجتماعی قبروں میں دفن کیا گیا تھا۔

کاؤسیس فرسٹ نیشن کے چیف کیڈ مسن ڈیل مور کا کہنا ہے کہ ہاسٹل کے گراؤنڈ میں مزید 100 بے نشان قبریں بھی ملی ہیں جس پر اندیشہ ظاہر کیا جاسکتا ہے کہ ان میں بھی بچوں کو دفنایا گیا ہو۔

خیال رہے کہ ایک ماہ قبل بھی کینیڈا کے ایک سابق ہاسٹل اسکول کے احاطے سے 215 بچوں کی بے نشان قبریں ملی تھیں جو برٹش کولمبیا کے شہر کملوپس کے طلبا کی تھیں۔

ٹوتھ اینڈ ریکوانسی لئیشن کمیشن نے پانچ سال پہلے ادارے میں بچوں کے ساتھ ہوئے غلط رویے پر تفصیلی رپورٹ دی تھی۔

کمیشن نے کینیڈا بھر کے ہاسٹلز کے احاطوں سے بچوں کی قبریں برآمد ہونے کا اندیشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ہاسٹل میں بچوں کے ساتھ اپنائے گئے غلط رویے اور لاپرواہی کے سبب کم سے کم 3200 بچوں کی اموات ہوچکی ہیں۔

واضح رہے کہ 19 اور20 ویں صدی کے دوران کینیڈا میں حکومت اورمذہبی حکام کے ذریعے چلائے جانے والے بورڈنگ اسکول میں قدیم مقامی نسل سے تعلق رکھنے والے بچوں کووالدین سے زبردستی علیحدہ رکھ کر نئی زبان اور جدید ثقافت اپنانے پر مجبور کیا جاتا تھا۔

کینیڈین حکومت نے غیر انسانی رویے پر 2008 میں معافی مانگی تھی، کینیڈین وزیراعظم جسٹس ٹروڈو نے ایک ٹویٹ میں بھی کہا کہ میری ول ہاسٹل اسکول میں بچوں کی لاشیں ملنے پر میرا دل اداس ہے، ہم انہیں واپس نہیں لاسکتے لیکن ان کی یاد مناسکتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں