The news is by your side.

Advertisement

افغان حکام طالبان سے مذاکرات کے لیے تیار، 250 افراد پر مشتمل وفد کا اعلان

کابل: افغان حکام طالبان سے مذاکرات کے لیے تیار ہوگئے، دو سو پچاس افراد پر مشتمل وفد کا اعلان کردیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق افغان حکام کی جانب سے طالبان سے مذاکرات کے لیے اپنے وفد کی فہرست جاری کردی گئی، فہرست میں کئی سرکاری افسران شامل ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ مذاکراتی وفد کی فہرست میں ملکی صدر اشرف غنی، چیف آف اسٹاف عبدالسلام رحیمی اور انتخابات میں ہارنے والے رہنما امراللہ صالح سمیت افغان انٹیلی جنس کے سابق سربراہ بھی شامل ہیں۔

قطری دارالحکومت دوحہ میں ہونے مذاکرات میں طالبان وفد میں خواتین بھی شامل ہوں گی، جبکہ افغان حکام کے وفد میں 52 خواتین سمیت قبائلی عمائدین اور کئی نوجوان رہنما شامل ہوں گے۔

فریقین کے درمیان ہونے والی اس ملاقات کو عالمی سطح پر اہم سمجھا جارہا ہے، طالبان ہمیشہ افغان حکام کو کٹھ پتلی ریاست کہہ کر مذاکرات سے انکار کردیتے تھے۔

رواں سال فروری کے مہینے میں ماسکو میں ہونے والے مذاکرات میں افغان طالبان نے اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات کی تھی، جس میں حکومت کا کوئی کردار نہیں تھا۔

دوحہ میں طالبان مذاکراتی وفد میں خواتین بھی شامل

افغان امن مذاکرات کے طویل دور میں یہ پہلا موقع ہوگا جب فریقین کی جانب سے خواتین کو مذاکراتی ٹیم میں شامل کیا گیا ہو، امریکا کے نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے طالبان اور کابل حکومت کی جانب سے مذاکراتی عمل میں خواتین کو شامل کرنے کے فیصلے کو سراہا ہے۔

یاد رہے کہ قطر طالبان اور امریکی نمائندے افغان امن مذاکرات کے سلسلے میں گزشتہ روز دوحہ پہنچ گئے تھے، امن مذاکرات کے عمل کا آغاز 19 اپریل سے ہوگا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں