site
stats
پاکستان

ہنگری: سترپاکستانیوں کے قاتل عاطف لاہوریا کو پاکستان لانے کی تیاری

Hungary

بوداپست : ہنگری میں گرفتار ہونے والے بدنام زمانہ بھتہ خور اور ستر افراد کے قاتل عاطف لاہوریا کو آئندہ چند روز میں پاکستانی حکام کے حوالے کردیا جائے گا۔ ہنگری پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کوغیر قانونی تارکین وطن کے گروپ کے ساتھ گرفتار کیا گیا۔

اے آر وائی نیوز نے اپنی روایت برقرار رکھتے ہوئے ستر افراد کے قاتل اور بھتہ خور 35 سالہ عاطف لاہوریا عرف درندہ کی خبر سب سےپہلے نشرکی تھی۔

گوجرانوالہ کارہائشی ستر افراد کا قاتل اور بھتہ خور عاطف لاہوریا عرف درندہ ہنگری سےگرفتار کر لیا گیا, غیر ملکی میڈیا کے مطابق عاطف درندے کو دو روز قبل ہنگری سے گرفتارکیاگیاتھا۔

عالمی میڈیا نے اس کی گرفتاری کی خبروں کو نمایاں طور پر شائع کیا، عاطف لاہوریا کو آئندہ چند روز میں اسلام آباد کے حوالے کرنے کیلئے قانونی کارروائی شروع کر دی جائیگی۔

عاطف لاہوریا کیخلاف پنجاب کے مختلف تھانوں میں پچیس سے زائد مقدمات درج ہیں، ملزم نے تین ماہ قبل بھتہ دینے سے انکار پر علی پور چٹھہ کے تاجر کو قتل کیا تھا۔ تاجرکے قتل کی سی سی ٹی وی فوٹیج اےآروائی نیوز پر نشرکی گئی تھی۔

واضح رہے کہ اپنی روایت برقرار رکھتے ہوئے عاطف لاہوریا کی گرفتاری کی خبر بھی سب سے پہلے اےآر وائی نیوز نے نشرکی۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ہنگری پولیس نے بوداپست کے قریب غیرقانونی تارکین وطن کے ایک گروپ کو سربیا کی سرحد کے نزدیک روکا جس میں 35 سالہ شخص بھی شامل تھا جس پرپاکستان میں 70 افراد کو قتل کرنے کا الزام ہے۔

ہنگری پولیس حکام کے مطابق پاکستان کی جانب سے اس شخص کے خلاف بین الاقومی وارنٹ گرفتاری کیا گیا تھا۔

دوسری جانب آسٹریا کے کرمنل بیورو کا کہنا ہے کہ تارکین وطن کو غیرقانونی طور پرآسٹریا اسمگل کیا جارہا تھا جنہیں ہنگری کی سربیا اور کروشیا سے ملنے والی سرحد کے قریب بولی کے علاقے سے گرفتار کیا گیا۔

آسٹریا کے کرمنل بیورو نے بیان میں مزید کہا کہ یہ علاقہ ہنگری کے دارالحکومت بداپست سے 175 کلو میٹرجنوب میں واقع ہے۔

واضح رہے کہ آسٹریا کے وزیرداخلہ وولف گینگ سوبوٹکا نے کہا کہ یہ کیس واضح کرتا ہے کہ بین الاقوامی تعاون عالمی جرائم روکنے میں کس قدر اہمیت رکھتا ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top