The news is by your side.

Advertisement

اسرائیل: بھوک ہڑتالی فلسطینی قیدی کی حالت نازک

یروشلم: اسرائیل میں زیر حراست بھوک ہڑتالی فلسطینی قیدی کی حالت نازک ہو گئی ہے، جس پر انھیں اسپتال داخل کر دیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ہشام ابو حواش، جو تقریباً 140 دنوں سے کھانے سے انکار کر کے اپنی حراست کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، کو صحت کے ناقابل علاج نقصان کا خدشہ لاحق ہو گیا ہے، ہشام کو ممکنہ المناک جانی نقصان کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

کئی مہینوں سے بھوک ہڑتال کرنے والے 40 سالہ ہشام ابو حواش کو اسرائیلی فورسز نے کسی الزام کے بغیر اگست سے حراست میں لے رکھا ہے، جب کہ فلسطینیوں کی جانب سے اسرائیل سے ان کی رہائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

ان کی اہلیہ عائشہ حربت نے اتوار کے روز میڈیا کو بتایا کہ ہشام کی حالت ‘انتہائی خطرناک’ ہے، اور وہ کل سے بالکل بات نہیں کر پا رہے، وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ ان کے ارد گرد کیا ہو رہا ہے۔

اہلیہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ان کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے بعد بھی انھیں مشکل مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، عائشہ نے کہا کہ ان کے وکیل اسرائیل کی سپریم کورٹ میں ان کی نظر بندی کے خلاف فوری اپیل جمع کر رہے ہیں۔

ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی کا کہنا ہے کہ ابو حواش سے ملنے والی طبی ٹیموں نے انھیں تشویش ناک حالت میں پایا، اور کہا کہ ان کے لیے ماہر طبی نگرانی کی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ فلسطینی شہری کو اسرائیل نے متنازع قانون کے تحت مشتبہ افراد کی فہرست میں رکھا ہے، متنازع قانون کے مطابق اسرائیلی فورسز کسی بھی فلسطینی کو مشتبہ قرار دے کر 6 ماہ حراست میں رکھ سکتی ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں