The news is by your side.

Advertisement

سمندری طوفان ماریہ پورٹو ریکا کی جانب بڑھ رہا ، الرٹ جاری

ڈومینیکا : سمندری طوفان ماریہ ڈومینیکا سے ٹکرا گیا اور اب طوفان پورٹو ریکا کی جانب بڑھ رہا ہے، پورٹو ریکو کی حکومت نے لوگوں کو الرٹ جاری کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ارما کے بعد کیریبئن جزائر میں طوفان ماریہ نے تباہی مچادی، طوفان ماریہ ڈومینیکا سے ٹکرا گیا، طوفان کے سبب شدید بارشیں ہو رہی ہیں اور ڈھائی سو کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں۔

ڈومینیکا کے وزیراعظم روز ویلٹ سکیرِٹ نے بتایا کہ سمندری طوفان ماریا نے ریاست میں شدید تباہی پھیلائی ہے جبکہ انھوں نے اپنی فیس بک پوسٹ میں کہا کہ ان کے گھر کی چھت اڑ چکی ہے۔

ماہرین کے مطابق طوفان انتہائی خطرناک ہے، یہ طوفان اب پورٹو ریکو اور ورجن آئی لینڈ کی طرف بڑھ رہا ہے۔

پورٹو ریکو کی حکومت نے لوگوں کو محفوظ مقامت پر منتقل ہونے کا الرٹ جاری کردی۔


مزید پڑھیں :  ارما کے بعد طوفان ماریا کیٹگری5 کے طوفان میں تبدیل


پورٹوریکو میں طوفان کے پیش نظر پیڑول اسٹیشن پر گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئی ہے جبکہ بڑے پیمانے پر ضروری اشیائے ضرورت کی خریداری کے باعث اسٹورز خالی ہوگئے ہیں۔

امریکہ کے قومی سمندری طوفان کے مرکز این ایچ سی کا کہنا ہے کہ سمندری طوفان ماریہ بحیرہ اوقیانوس سے اٹھنے والا تیسرا طوفان ہے اور اس کو  کیٹیگری فائیو میں شمار کیا جا رہا ہے ، یہ طوفان اسی راستے سے بڑھ رہا ہے ،جس پر طوفان ارما نے تباہی مچائی تھی۔

یاد رہے  گذشتہ ہفتے سمندری طوفان ارما بھی کیٹگری فائیو کا تھا ، جس نے کیریبیئن جزائر، کیوبا اور امریکی ریاست فلوریڈا کے ساحلی علاقوں میں تباہی مچادی تھی جبکہ ارما ہلاک افراد کی تعداد چالیس تک جا پہنچی تھی۔

طوفانی ہواؤں، شدید بارشوں نے فلوریڈا کے ساحلی علاقوں کو تہس نہس کر دیا تھا، مکانوں کی چھتیں اڑ گئیں، درخت جڑوں سے اکھڑ گئے، ساٹھ لاکھ سے زائد صارفین بجلی  سے محروم ہوگئے تھے ، جس کے بعد  ریاست فلوریڈا کو آفت زدہ قرار دے دیا گیا تھا۔


مزید پڑھیں : سمندری طوفان ارما فلوریڈا سے ٹکرا گیا


گزشتہ ایک صدی میں اِرما کو بحر اوقیانوس سے اٹھنے والے انتہائی شدید اور طاقتور طوفانوں میں شمار کیاجاتا ہے۔

واضح رہے ارما سے قبل  امریکی ریاست ٹیکساس میں طوفان ہاروے نے تباہی مچادی تھی ، طوفان سے ہلاکتوں کی تعداد 47 تک جاپہنچی جبکہ 1 لاکھ مکانات کو نقصان پہنچا تھا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں