The news is by your side.

Advertisement

شوہر سے جھگڑا: بیوی نے غصّے میں منجمد انسانی لاشیں و باقیات چرالیں

ماسکو : شوہر سے جھگڑا اور طلاق کے بعد بیوی نے پیسے لیکر منجمد کی گئی انسانی لاشوں اور باقیات کو مبینہ طور پر چرا لیا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق روس کے ایک سائنس داں ڈینیلا مادودیو نے کرایونکس نامی کمپنی کی بنیاد رکھی جو لوگوں سے پیسے لیکر ان کی لاشوں، باقیات یا ان کے جانوروں کو شدید منفی درجہ حرارت پر منجمد کرتی ہے تاکہ مستقبل میں انہیں ٹیکنالوجی کی مدد سے دوبارہ زندہ کیا جاسکے۔

اس کمپنی کی شراکت دار ڈینیلا مادودیو کی بیوی بھی تھی جس کا اپنے شوہر سے جھگڑا ہوا اور نوبت طلاق تک آن پہنچی۔

طلاق کے بعد بیوی نے اپنے کچھ ساتھیوں کی مدد سے کمپنی کے گودام میں رکھے منجمد لاشوں اور انسانی اعضا کے ٹینک اٹھا کر ٹرک میں رکھے تاکہ انہیں چرا کر لے جاسکے تاہم کمپنی عملے کی مداخلت کے باعث وہ کامیاب نہ ہوسکی۔

کمپنی کے اسٹور میں 81 انسانی لاشیں اور باقیات جبکہ 47 جانوروں کی منجمد لاشیں رکھی ہیں جس کے حصول کےلیے بیوی نے اب عدالت سے رجوع کرلیا ہے۔

واضح رہے کہ لاشوں کو منجمد کرنے کے عمل کو ’کرایو جینکس‘ کہتے ہیں، جس میں مائع نائٹروجن کے ٹینک میں انسانی لاشوں یا باقیات کو اس امید پر رکھا جاتا ہے کہ مستقبل میں انہیں ٹیکنالوجی کی مدد سے دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں