جمعہ, جولائی 17, 2026
اشتہار

’شوہر بے روزگاری کا بہانہ بنا کر بیوی کی ذمہ داری سے نہیں بچ سکتا‘

اشتہار

حیرت انگیز

(6 جون 2026): گھریلو تشدد کیس میں عدالت نے قرار دیا کہ شوہر بے روزگاری کا بہانہ بنا کر بیوی اور بچے کی ذمہ داری اٹھانے سے نہیں بچ سکتا۔

انڈین میڈیا رپورٹس کے مطابق دہلی کی عدالت نے گھریلو تشدد سے متعلق کیس میں ایک شخص کو بیٹے کیلیے 6000 روپے ماہانہ خرچ دینے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی شوہر صرف بے روزگاری کا بہانہ بنا کر بیوی اور بچے کیلیے اپنی قانونی ذمہ داریوں سے پیچھے نہیں ہٹ سکتا۔

ایڈیشنل سیشن جج شیتل چودھری پردھان ایک خاتون کی طرف سے دائر اپیل پر سماعت کر رہی تھیں۔ خاتون نے نچلی عدالت کے اس فیصلے کو چیلنج کیا تھا جس میں گھریلو تشدد سے خواتین کے تحفظ کے قانون کے تحت اسے مالی امداد دینے سے انکار کر دیا گیا تھا، تاہم اب عدالت نے ان کی اس اپیل کو منظور کر لیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پڑوسی کے کپڑے چُرانے پر شوہر بیوی سے طلاق لینے عدالت پہنچ گیا

عدالت نے حکم دیا کہ یہ شوہر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اخراجات کا انتظام کرے، محض یہ بہانہ بنانا کہ وہ بے روزگار ہے یا اس پر دیگر ذمہ داریاں ہیں اسے اپنی قانونی بیوی اور بیٹے کا خرچ اٹھانے سے بری الذمہ نہیں کرتا۔

فیصلے میں قرار دیا گیا کہ شوہر جسمانی طور پر تندرست اور کمانے کے قابل ہے، اس لیے وہ خرچ دینے کی صلاحیت رکھتا ہے، وہ بچے کے بالغ ہونے تک اس کی دیکھ بھال کیلیے 6000 روپے ماہانہ ادا کرے۔

خاتون کا الزام تھا کہ فروری 2013 میں شادی کے بعد سے اسے شوہر اور سسرال والوں کی طرف سے جہیز کیلیے تنگ کیا گیا، جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ذہنی اذیت دی گئی۔

خاتون نے دعویٰ کیا کہ حمل کے دوران اسے سسرال سے نکال دیا گیا تھا اور وہ 2015 سے اپنے بیٹے کے ساتھ الگ رہ رہی ہے۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق 2015 میں فیملی کورٹ میں ایک معاہدے کے بعد یہ جوڑا کچھ وقت کیلیے دوبارہ اکٹھا ہوا اور چند ماہ کرائے کے مکان میں رہا، لیکن پھر الگ ہوگیا۔

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں