site
stats
اہم ترین

حسین حقانی کا بیان، وزیر دفاع خواجہ آصف کا پارلیمانی کمیشن بنانے کا مطالبہ

اسلام آباد : قومی اسمبلی میں حسین حقانی کے الزامات کی گونج سنائی دی، حسین حقانی کے بیان پر وزیر دفاع خواجہ آصف نے پارلیمانی کمیشن بنانے کا مطالبہ کردیا اور کہا حسین حقانی نے ملک کے خلاف بات کی جبکہ خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ حسین حقانی کے بیان پر مشترکہ کمیٹی بنائی جائے۔

تفصیلات کے مطابق امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیرحسین حقانی نے واشنگٹن پوسٹ میں اپنے کالم جو الزامات لگائے، اس نے پاکستان کے سیاسی ماحول کوایک بار پھر گرما دیا ہے، قومی اسمبلی کے اجلاس میں امریکا میں سابق پاکستانی سفیرحسین حقانی کے الزامات کے معاملے حکومت اور اپوزیشن نے ایک دوسرے پر تنقید کی، وزیر دفاع خواجہ آصف نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ قومی مسئلہ ہے، اس پر پارلیمانی کمیشن بنایا جائے، کمیشن اس معاملے کی اوپن انکوائری کرے۔

خواجہ آصف نے الزام لگایا کہ حسین حقانی کے ساتھ اس وقت کے دو انتہائی اہم عہدوں پر بیٹھے افراد بھی ملوث تھے ، دبئی اور واشنگٹن میں بیٹھ کر امریکیوں کو ویزے دیئے گئے


خورشیدشاہ نے حسین حقانی کو غدار قرار دیدیا


دوسری جانب قائدِ حزب اختلاف خورشیدشاہ نے حسین حقانی کو غدار قرار دیکر جان چھڑانے کی کوشش کی۔

خورشید شاہ نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کو کوئی اعتراض نہیں، قومی سلامتی کے معاملات پر ایوان میں بات ہونی چاہیے، پارلیمان کی بالادستی پر یقین رکھتےہیں۔

خورشید شاہ نے خواجہ آصف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ میموگیٹ کی تفصیلات اورسیکیورٹی لیکس کےمعاملے پر بھی بات ہونی چاہئیے اور اس پر بھی بات ہونی چاہئیے کہ اسامہ بن لادن کے کس کس کے ساتھ تعلقات تھے، انہوں نے تجویز پیش کی کہ حسین حقانی کے بیان پر مشترکہ کمیٹی بنائی جائے۔

تحریک انصاف اور ایم کیوایم نے بھی کمیٹی کے قیام کی تجویز کی حمایت کی۔


سابق سفیرحسین حقانی کے انکشافات


یاد رہے کہ امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیرحسین حقانی نے گزشتہ دنوں امریکی اخبارواشنگٹن پوسٹ میں کالم لکھا تھا، جس میں انہوں نے پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت پرالزامات عائد کئے ان کے اس کالم نے ملکی سیاست میں حدت پیدا کردی۔

حسین حقانی نے اپنے کالم میں لکھا تھا کہ واشنگٹن میں ان کے دوستوں نے پاکستان میں امریکی اسپیشل آپریشنز اورانٹیلی جنس کے حکام کی تعیناتی کے لئے مدد طلب کی، میں وہ درخواست پاکستان کی سویلین قیادت کے پاس لے گیا، جنہوں نے اس کی منظوری دیدی۔

حسین حقانی نے لکھا کہ پی پی قیادت اندرون ملک اور بیرون ملک پرویز مشرف کی پالیسیوں کو ختم کرنے کے لئے امریکی حمایت کے طلب گار تھی، وہ طالبان کے لئے پاکستان کی حمایت ختم، بھارت اور افغانستان سے بہترتعلقات اورخارجہ پالیسی کی تشکیل میں پاکستان کی ملٹری انٹیلی جنس کے کردار کو محدود کرنا چاہتی تھی اور اس کے جواب میں وہ معیشت کو بہتر بنانے کے لئے امریکی امداد کی خواہش مند تھی۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top