haqqani ایف آئی اے نے سابق سفیر حسین حقانی کے خلاف مقدمہ درج کرلیا
The news is by your side.

Advertisement

ایف آئی اے نے سابق سفیر حسین حقانی کے خلاف مقدمہ درج کرلیا

اسلام آباد : امریکا میں مقیم سابق پاکستانی سفیر حسین حقانی کے خلاف ایف آئی اے نے مقدمہ درج کرلیا، مقدمےمیں کرپشن، اختیارات کا ناجائز استعمال اوردیگر سنگین دفعات شامل کی گئی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق میمو گیٹ اسکینڈل کیس میں ملوث امریکہ میں سابق پاکستانی سفیر حسین حقانی کے گرد گھیرا مزید تنگ کردیا گیا ہے۔

ایف آئی اے نے ان کیخلاف سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا ہے، اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ حسین حقانی کیخلاف مقدمہ اینٹی کرپشن سرکل نے مکمل انکوائری کے بعد درج کیا ہے۔

حسین حقانی کےخلاف مقدمہ سنگین دفعات کےتحت درج کیا گیا مذکورہ مقدمے میں کرپشن،اختیارات کا ناجائز استعمال اور دیگر دفعات شامل کی گئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق حسین حقانی کیخلاف ایف آئی اے ریڈ وارنٹ کے اجراء کا عمل جلد شروع کرے گی، اس سے قبل حسین حقانی کی گرفتاری کیلئےانٹر پول سے ریڈ وارنٹ کے اجراء کی درخواست بھی کی گئی تھی۔

یاد رہے کہ میموگیٹ اسکینڈل 2011 میں اس وقت سامنے آیا تھا جب پاکستانی نژاد امریکی بزنس مین منصوراعجاز نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ انہیں حسین حقانی کی جانب سے ایک پیغام موصول ہوا جس میں انہوں نے ایک خفیہ میمو اس وقت کے امریکی ایڈمرل مائیک مولن تک پہنچانے کا کہا۔

ان پر یہ الزام بھی عائد کیا جاتا ہے کہ ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے لیے کیے گئے امریکی آپریشن کے بعد پاکستان میں ممکنہ فوجی بغاوت کو مسدود کرنے کے سلسلے میں حسین حقانی نے واشنگٹن کی مدد حاصل کرنے کے لیے ایک میمو بھیجا تھا۔


مزید پڑھیں: میمو گیٹ اسکینڈل، حسین حقانی کے وارنٹ گرفتاری جاری


اس اسکینڈل کے بعد حسین حقانی نے بطور پاکستانی سفیر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا اور اس کی تحقیقات کے لیے ایک جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا گیا تھا، جوڈیشل کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ میمو ایک حقیقت تھا اور اسے حسین حقانی نے ہی تحریر کیا تھا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا تھا کہ حسین حقانی نے میمو کے ذریعے امریکا کو نئی سیکورٹی ٹیم کے قیام کا یقین دلایا اور وہ خود اس سیکورٹی ٹیم کا سربراہ بننا چاہتے تھے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں