برملاکہتاہوں کہ آپ کے پاس ثبوت ہیں توکارروائی کریں،حسین نواز -
The news is by your side.

Advertisement

برملاکہتاہوں کہ آپ کے پاس ثبوت ہیں توکارروائی کریں،حسین نواز

اسلام آباد : وزیر اعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز کا کہنا ہے کہ جو سوالات ہم سے کیے جاتے رہے وہ دو پیشیوں کے سوالات تھے، برملا کہتا ہوں کہ آپ کے پاس ثبوت ہیں تو کارروائی کریں، آپ کے پاس ثبوت نہیں تو شکوک وشبہات پیدا کرنے کی اجازت نہیں۔

تفصیلات کے مطابق پاناماکیس میں جے آئی ٹی کے سامنے پیشی کے بعد جوڈیشل اکیڈمی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نوازشریف کے بڑے صاحبزادے نے کہا کہ آج جےآئی ٹی کے سامنے میری چھٹی پیشی تھی، جو سوالات ہم سے کیے جاتے رہے وہ دو پیشیوں کے سوالات تھے، ان سوالات کے لیے 6پیشیوں کی ضرورت نہیں تھی۔

حسین نواز نے کہا کہ ہمارافیصلہ تھا کہ جےآئی ٹی کے ساتھ بھرپور تعاون کریں گے، جے آئی ٹی کے تمام سوالات کا جواب دیا اور انتظار بھی کیا، جےآئی ٹی رپورٹ فائنل کرکے سپریم کورٹ میں پیش کرے گی۔

انکا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی کو میرےخاندان کے کسی فرد کے بارے میں ثبوت نہیں ملے گا، جس چیز کا وجود ہی نہیں تو اس کا ثبوت آپ کو کیسے ملے گا، منی لانڈرنگ کی ہی نہیں تو ثبوت کس چیز کا ملے گا، برملا کہتا ہوں کہ آپ کے پاس ثبوت ہیں تو کارروائی کریں، آپ کے پاس ثبوت نہیں تو شکوک و شبہات پیدا کرنے کی اجازت نہیں۔

وزیراعظم کے صاحبزادے نے کہا کہ سچائی یہ ہے کہ ان لوگوں کو کچھ نہیں ملے گا، بھٹو کیس اور طیارہ سازش کیس میں بھی ایسے معاملات آتے ہیں، جس کا مقصد ابہام پیدا کرنا اور سازشیں تیار کرنا ہے، معلوم نہیں کیا معاملات ہو رہے ہیں صرف متنبہ کر رہا ہوں، مینڈیٹ سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی اور نہ دی جائے گی۔

حسین نواز کا مزید کہنا تھا کہ طیارہ سازش کیس میں سلطانی گواہ پیش کئےجاچکے ہیں، جو بعد میں جھوٹ نکلا، کل آپ بھی ان ہی عدالتوں میں کھڑے ہونگے، آپ سے بھی سوالات ہونگے اس کو مدنظر رکھیں، خلاف قانون کام کیا تو یہ نہ سمجھیں آپ بچ کرنکل جائیں گے۔

وزیر اعظم نواز شریف کے بیٹے حسین نواز نے کہا کہ مطالبات کرتا ہوں نوازشریف کا غیرملکی اثاثوں سے تعلق پبلک کیا جائے، نوازشریف کا غیرملکی اثاثوں سے کوئی تعلق نہیں ہے، جےآئی ٹی کے ممبران کے قطرجانے سے متعلق نہیں جانتا، معلوم نہیں مجھے6 مرتبہ جوڈیشل اکیڈمی کیوں بلایا گیا۔

انھوں نے کہا کہ ، ان کے پاس ثبوت نہیں معاملات الجھانے کیلئے بار بار بلایا جاتا رہا ہے، سلطانی گواہ بنا دینا،شکوک و شبہات اور ابہام پیدا کرنا پرانا طریقہ کارہے، اس کیس کو طیارہ سازش کیس نہیں بننےدیں گے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں