The news is by your side.

Advertisement

عدالتی احکامات کی میرے نزدیک کوئی اہمیت نہیں، حسین حقانی

نیویارک : میموگیٹ کیس میں مطلوب حسین حقانی کی پاکستان کی اعلی عدلیہ کے خلاف ہزرہ سرائی کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی احکامات کی میرے نزدیک کوئی اہمیت نہیں۔

تفصیلات کے مطابق میمو گیٹ کیس کے مرکزی کردار حسین حقانی نے عدالتی احکامات کو ہوا میں اڑادیا اور کہا کہ جب وارنٹ موصول ہوں گے تو اس سے بھی نمٹ لیں گے۔

وائس آف امریکا کو انٹرویو دیتے ہوئے حسین حقانی نے پاکستان کی اعلی عدلیہ پر ہرزہ سرائی کی اور کہا کہ عدالتی احکامات میرے لئے کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔

امریکہ میں بیٹھ عدالت کا مذاق اڑاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں پہلے بھی عدالتی تماشہ لگایا گیا تھا اب بھی لگایا گیا ہے۔

جب اُن سے پوچھا گیا کہ اعلیٰ عدالت کے احکامات اُن کے لیے کس قدر اہم ہیں تو حسین حقانی نے کہا کہ نہ صرف میرے لیے، بلکہ باقی دنیا کے لیے بھی ان احکامات کےکوئی معنی نہیں۔

عدالت کا سامنا کرنے سے گھبرانے والے حسین حقانی کا کہنا تھا کہ میں نے پاکستان جاکرعدالت کا سامنا کرنے کا بیان کبھی نہیں دیا۔

عدالت پرسنگین الزام عائدکرتےہوئے حسین حقانی نے یہ کہا کہ آؤ آؤ آؤ کی گردان کرنے سے سازش کی بو آتی ہے۔


مزید پڑھیں : سپریم کورٹ کی حسین حقانی کو وطن واپس لانے کیلئے30 دن کی ڈیڈلائن


یاد رہے کہ  سپریم کورٹ نے میمو گیٹ اسکینڈل کیس کے مرکزی ملزم  سابق سفیر حسین حقانی کو وطن واپس لانے کے لئے30 دن کی ڈیڈلائن دی تھی اور کہا تھا کہ ، اس کے بعد کوئی عذر برداشت نہیں کیا جائے گا۔

یاد رہے چند روز قبل سابق امریکی سفیر حسین حقانی کے خلاف بغاوت کا مقدمہ مقدمہ پریڈی تھانے میں وکیل مولوی اقبال حیدر کی مدعیت میں مملکت کے خلاف سازش کی دفعات کے تحت درج کیاگیا تھا۔

واضح  رہے کہ میموگیٹ اسکینڈل 2011 میں اس وقت سامنے آیا تھا جب پاکستانی نژاد امریکی بزنس مین منصور اعجاز نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ انہیں حسین حقانی کی جانب سے ایک پیغام موصول ہوا جس میں انہوں نے ایک خفیہ میمو اس وقت کے امریکی ایڈمرل مائیک مولن تک پہنچانے کا کہا۔

حسین حقانی  پر  یہ  الزام عائد کیا جاتا ہے کہ ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے لیے کیے گئے امریکی آپریشن کے بعد پاکستان میں ممکنہ فوجی بغاوت کو مسدود کرنے کے سلسلے میں حسین حقانی نے واشنگٹن کی مدد حاصل کرنے کے لیے ایک میمو بھیجا تھا۔

اس اسکینڈل کے بعد حسین حقانی نے بطور پاکستانی سفیر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا اور اس کی تحقیقات کے لیے ایک جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا گیا تھا۔

جوڈیشل کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ میمو ایک حقیقت تھا اور اسے حسین حقانی نے ہی تحریر کیا تھا، رپورٹ میں مزید کہا گیا تھا کہ حسین حقانی نے میمو کے ذریعے امریکا کو نئی سیکورٹی ٹیم کے قیام کا یقین دلایا اور وہ خود اس سیکورٹی ٹیم کا سربراہ بننا چاہتے تھے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات  کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں