یمن میں قیام امن کے لیے کاوشیں رنگ لانا شروع ہوگئیں -
The news is by your side.

Advertisement

یمن میں قیام امن کے لیے کاوشیں رنگ لانا شروع ہوگئیں

حوثی قبائل اوریمنی حکومت حدیدہ پورٹ اورشہر اقوام متحدہ کے حوالے کرنے کے لیے راضی

یمن میں کئی سالوں سے دہکتی ہوئی آگ بالاخر دھیمی پڑتی نظر آرہی ہے کہ حوثی قبائل اور یمن کی حکومت نے پورٹ سٹی حدیدہ سے فوجیں نکالنے کے پر رضا مندی ظاہر کردی ہے، اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اس ڈیل تک آجانا جنگ کے خاتمے کی جانب پہلا قدم ہے۔

یمن میں حوثی قبائل اور یمنی حکومت گزشتہ چار برس سے زائد عرصے سے ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہیں ۔ خانہ جنگی نے عرب دنیا کے اس دوسرے سب سے زیادہ آبادی والے ملک کو تباہی کی اس نہج پر پہنچا دیا ہے کہ دنیا کی تاریخ کا سب سے شدید قحط یہاں پڑنے جارہا ہے۔ یمنی حکومت کی پشت پر سعودی اتحاد موجود ہے اور حوثی قبائل کی مدد کے لیے ایران کو موردِ الزام ٹھہرایا جاتا رہا ہے۔

یمن کے 37 لاکھ عوام کے لیے اناج ساحل پر جہاز میں پڑے پڑے خراب ہورہا ہے

گزشتہ سال دسمبر میں سویڈن میں ہونے والے مذاکرات میں ہونے والی جنگ بندی کی ڈیل کے نتیجے میں دونوں متحارب پارٹیوں کی جانب سے حدیدہ سے فوجیں نکالنے پر پہلی بار رضامندی ظاہر کی گئی تھی ، تاہم دونوں کی جانب سے اس کے لیے کوئی مدت طے نہیں کی گئی تھی۔

پورٹ کی حوالگی پراتفاق

اقوام متحدہ کا ایک بحری جہاز جس میں یمن کے بھوک سے بے حال شہریوں کے لیے اتنااناج موجود ہے کہ کم ازکم ایک ماہ کی ضرورت کو پورا کرسکے۔ حدیدہ کی بندرگاہ پر لنگر انداز ہے لیکن شہر میں امن وامان کی سنگین صورتحال کے سبب اس کے عملے کو شہر میں جانے کی اجازت نہیں مل رہی۔

یمن کی گہرائیوں سے برآمد ہونے والی آگ

قیامتِ صغریٰ: امن سے یمن تک

یمنی عوام کی فریاد خدا تک پہنچ رہی ہے، پوپ فرانسس

اس مسئلے کے حل کے لیے سویڈن سے ہی تعلق رکھنے والے مائیکل لولیز گارڈ نے ، جو کہ اقوام متحدہ کے مبصر مشن کے سربراہ بھی ہیں، انہوں نے تجویز دی تھی کہ دونوں پارٹیاں شہر اور بندرگاہ کو اقوام متحدہ کے حوالے کردیں تاکہ یمنی عوام کے لیے بیرونی دنیا تک رسائی حاصل کرسکیں۔

ابتدائی طور پر اس معاملے پر اتفاق کرلیا گیا ہے اور اب دونوں پارٹیوں کے وفود اپنی قیادت سے مشاورت کررہے ہیں۔ اگر قیادت کی جانب سے گرین سگنل مل جاتا ہے تو دونوں متحارب فریق آئندہ ہفتے اس معاملے کو حتمی شکل دینے کے لیے ملاقات کریں گے۔

یمن میں انسانی المیہ

اس پیش رفت کو طویل عرصے سے جاری یمن جنگ کے خاتمے کی جانب پہلا قدم قرار دیا جارہا ہے ، چار سال سے جاری اس جنگ میں اب تک اب تک کم ازکم 7 ہزار افراد مارے جاچکے ہیں جبکہ 11 ہزار کے لگ بھگ زخمی ہوئے ہیں۔ مرنے والے اور زخمی ہونے والوں میں سے آدھے سعودی اتحاد کی فضائی بمباری کا نتیجہ ہیں اور ان میں اکثریت عام شہریوں کی ہے جن کا اس جنگ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

جنگ کے سبب ملک کی 75 فیصد آبادی مشکلات کا شکا ر ہے اور انہیں مدد کی ضرورت ہے ۔ یہ تعداد دو کروڑ 20 لاکھ بنتی ہے اور ان میں سے ایک کروڑ تیرہ لاکھ افرا د وہ ہیں جنہیں زندہ رہنے کے لیے فوری انسانی مدد کی ضرورت ہے۔ اس وقت ملک میں1 کروڑ 71 لاکھ سے زائد افراد ایسے ہیں جنہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ اگر آج انہوں نے کھانا کھایا ہے تو اگلا کھانا انہیں کب اور کس ذریعے سے نصیب ہوگا۔ المیہ یہ ہے کہ ان میں سے چار لاکھ پانچ سال سے کم عمر بچے بھی شامل ہیں۔

اقوام متحدہ کی امداد کا کیا ہوگا؟

ایک جانب جہاں حدیدہ سے فوجیں نکالنے کے معاملے پر پیش رفت ہورہی ہے ، وہیں یمنی شہریوں کے لیے اناج لےکر آنے والے اقوام متحدہ کےجہاز کا معاملہ جوں کا توں ہے۔ اقوام متحدہ کے امداد مشن کے سربراہ مارک لوکوک نے حوثیوں سے درخواست کی تھی کہ وہ ’ریلیف گروپس ‘ کو فرنٹ لائن عبور کرکے حدیدہ کے یمنی حکومت کے زیر اہتمام علاقے تک جانیں دیں جہاں وہ ملیں موجود ہیں جن میں اس اناج کوعوام کے لیے کھانے کے لائق بنایا جاسکے۔

سعودی عرب اور یواے ای کو یقین نہیں کہ حوثی قبائل پورٹ سے دست بردار ہوں گے

اقوام متحدہ کی جانب سے بتایا جارہا ہے کہ اس اناج سے یمن کے 37 لاکھ عوام کو ایک ماہ تک غذا کی فراہمی کی جاسکتی ہے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہ اناج خراب ہورہا ہے، اوراگراسے فی الفور ملز تک نہیں پہنچایا گیا تویہ سب ضائع ہوجائے گا۔

حوثی قبائل فی الحال اقوام متحدہ کے مشن کو فرنٹ لائن عبور کرنے کی اجازت دینے کے لیے تیار نہیں ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے اہلکاروں کی سیکیورٹی کی ذمہ داری نہیں لے سکتے ہیں۔ لہذا یمن کے شہریوں کے لیے فی الحال کوئی حوصلہ افزا خبر نہیں ہے۔ا س وقت یمن میں دس لاکھ سے زائد افراد شدید ترین غذائی بحران کا شکار ہیں اور اگر آئندہ ہفتے مذاکرات میں پیش رفت نہ ہوئی تو یہ صورتحال یمن کے باسیوں کے لیے ایک اور قیامت کا پیش خیمہ ثابت ہوگی۔

یمن کےامن میں عالمی کردار

اس سارےمنظر نامے میں امریکی حکومت کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے جس نے دونوں فریقین پر زور دیا تھا کہ وہ جنگ بندی کرکے معاملے کا حل بات چیت کے ذریعے نکالیں۔ امریکا اس سے قبل سعودی اتحاد کی حمایت کرتا رہا تھا، جس کے پس منظر میں ا مریکا کے ایران کے خلاف عزائم کارفرما تھے ۔ حوثی قبائل ایران کا ایک ملٹری ایڈونچر سمجھے جاتے ہیں بالکل اسی طرح جیسے لبنان میں حزب اللہ، لیکن حزب اللہ کو علی الاعلان ایران کی حمایت حاصل ہے لیکن حوثیوں کےمعاملے ایران اس الزام کی نفی کرتا ر ہاہے۔

حال میں دیکھنے میں آیا ہے کہ امریکا اب دنیا بھر میں پھیلے ہوئے اپنے جنگی معاملات سے دست بردار ہورہا ہے ، اور اسی سبب وہ افغانستان میں بھی طالبان سے مذاکرات کرکے اپنے انخلاء کی مدت طے کرچکا ہے، یعنی اب سعودی اتحاد کو اس جنگ میں امریکا کی حمایت زیادہ عرصے تک حاصل نہیں رہنے والی اور امریکا کی مدد کے بغیر یمن کی حکومت اور سعودی اتحاد کے لیے حوثیوں کا مقابلہ کرنا کوئی آسان نہیں ہوگا۔ اسی صورتحال کے پیشِ نظر یمنی حکومت مذاکرات کی میز پر آئی ہے اور حوثی قبائل بھی نصف دہائی سے جاری اس جنگ میں اب تھکن کا شکار ہوچکے ہیں بالخصوص ایسے حالات میں کہ جب خطے پر تاریخ کے بد ترین قحط کا خطرہ منڈلا رہا ہو، تو جنگ بندی فریقین کے لیے انتہائی اہمیت اختیار کرچکی ہے۔

امریکا اب عالمی منظرنامے پر پھیلے اپنے جنگی منصوبے ختم کررہا ہے جس کے اثرات اس کے اتحادیوں پر مرتب ہوں گے

دوسری جانب سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات تاحال اس سارے امن عمل کو مشکوک نگاہوں سےدیکھ رہے ہیں، ان کا ماننا ہے کہ حوثی قبائل اتنی آسانی سے اپنے زیر اثر پورٹ سے دست بردار نہیں ہوں گے، ان کے لیے یہ پورٹ ٹیکس وصولی اور یمن کی تمام تر ایکسپورٹ کی آمد و رفت پر اپنی بالادستی کا مرکز ہے۔

اگر آئندہ ہفتے ہونے والی ملاقات میں دونو ں فریقین حدیدہ کی بندرگاہ کو اقوام متحدہ کے حوالے کرکے اپنی افواج وہاں سے نکالنے کی تاریخ مقرر نہیں کرتے تو یمنی عوام جو پہلے ہی اس جنگ میں اپنا گھر بار ، معیشت اور خاندان ہر شے سے محروم ہوچکے ہیں، ان کے لیے ابتلا کا دور مزید وسیع ہوگا اور یہی ابتلا انہیں اپنے اپنے خطوں میں بر سر اقتدار حوثی قبائل اور یمنی حکومت کے خلاف ایک عوامی جنگ چھیڑنے پر بھی آمادہ کرسکتی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں