اسلام آباد : وزیر مملکت حذیفہ رحمان کا کہنا ہے کہ حکومت کے پارلیمان میں پی پی کے بغیر نمبر پورے نہیں ہوتے ، بلاول بھٹونے کہا ہے آرٹیکل 243 کےعلاوہ کسی بھی ترمیم پرراضی نہیں۔
تفصیلات کے مطابق وزیرِ مملکت حذیفہ رحمان نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کے پارلیمان میں پیپلز پارٹی کے بغیر نمبرز پورے نہیں ہوتے۔
وزیرِ مملکت نے بتایا کہ وزیراعظم نے جو آئینی ترمیم کا مسودہ پیپلز پارٹی سے شیئر کیا تھا، وہ آج وفاقی کابینہ سے منظور کرایا جانا تھا، تاہم پیپلز پارٹی کی جانب سے جواب موصول نہ ہونے پر منظوری مؤخر کر دی گئی۔
حذیفہ رحمان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اس مسودے پر ابتدائی طور پر متفق تھی، مگر بلاول بھٹو زرداری نے واضح کیا ہے کہ وہ آرٹیکل 243 کے علاوہ کسی بھی ترمیم پر راضی نہیں۔
انھوں نے کہا ایسا لگتا ہے کہ پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی (سی ای سی) میں مسودے پر تنقید کی گئی ہے۔
وزیرِ مملکت کا مزید کہنا تھا کہ جب تک پیپلز پارٹی کی جانب سے حتمی جواب نہیں آتا، کابینہ سے منظوری دینا بے معنی ہو گا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ایم کیو ایم نے لوکل باڈیز سے متعلق آرٹیکل 140-A میں ترمیم کی تجویز دی ہے، جس پر وزیراعظم نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اس پر عملدرآمد کیا جائے گا۔
وزیرِ مملکت نے کہا بی اے پی کا مؤقف ہے کہ ان کی نشستوں میں اضافہ کیا جائے، جبکہ تحریکِ استحکام پارٹی کی جانب سے کوئی خاص مطالبہ سامنے نہیں آیا۔
فیصل واوڈا کے بیانات کے حوالے سےان کا کہنا تھا کہ فیصل واوڈا کا اپنا نقطہ نظر ہے، وہ 26ویں آئینی ترمیم کے وقت بھی ایسی باتیں کر رہے تھے جومشکلات کاباعث بنتی ہیں.


