The news is by your side.

چوبیسویں قسط: پُر اسرار ہیروں والی گیند اور دہشت بھری دنیا

پہلی کتاب: آتشی پتھر..........باب: بچھوؤں کا سمندر

نوٹ: یہ طویل ناول انگریزی سے ماخوذ ہے، تاہم اس میں کردار، مکالموں اور واقعات میں قابل ذکر تبدیلی کی گئی ہے، یہ نہایت سنسنی خیز ، پُر تجسس، اور معلومات سے بھرپور ناول ہے، جو 12 کتابی حصوں پر مشتمل ہے، جسے پہلی بار اے آر وائی نیوز کے قارئین کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔

گزشتہ اقساط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

"بس تھوڑا سا اور رہ گیا ہے۔” فیونا نے ہانک لگائی۔ اگلے لمحے ایک جھٹکے سے اینٹ دیوار سے اکھڑ کر نیچے جا گری۔ فیونا بالکل تیار کھڑی تھی۔ دیوار میں ارتعاش پیدا ہوئی لیکن فیونا نے تیزی کے ساتھ خالی جگہ میں دوسری اینٹ رکھ دی۔ چند لمحوں کے لیے دیوار لرز کر رہ گئی۔ دھول کا ایک چھوٹا سا بادل فضا میں منڈلانے لگا تھا۔ فیونا کھانس کر پیچھے ہٹ گئی۔ دیوار سے چند پتھر بھی ٹوٹ کر نیچے گرے لیکن دیوار اپنی جگہ قائم رہی۔ وہ دونوں بھی دوڑ کر اندر آ گئے۔ جبران نے جلدی سے اینٹ اٹھا لی جس کے اندر قیمتی پتھر تھا۔ "ہم نے پتھر پا لیا… ہم نے پتھر پالیا۔” اس نے مسرت آمیز لہجے میں چیختے ہوئے کہا۔

"فیونا! وہ کیا ہے؟” یکایک خانقاہ میں دانیال کی خوف زدہ چیخ گونج اٹھی۔

وہ دونوں تیزی سے مڑ کر اس طرف دیکھنے لگے جہاں فیونا نے نئی اینٹ لگا دی تھی۔ ان دونوں کی آنکھیں بھی دہشت سے پھٹ کر رہ گئیں۔ اینٹ والی جگہ سے بڑی تعداد میں کوئی سیاہ مخلوق اتنی تیزی سے نکل رہی تھی جیسے اچانک کوئی آتش فشاں پھٹا ہو، اور اس سے لاوا ابلنے لگا ہو۔

فیونا چلا کر بولی: "یہ بچھو ہیں۔ اف میرے خدا، یہ تو ہر جگہ سے نکل رہے ہیں۔”

"چلو بھاگو یہاں سے۔” جبران دہشت زدہ ہو کر چلایا، اور ماربل کی اینٹ پھینک کر باہر کی طرف دوڑا۔ فیونا اور دانیال بھی اس کے پیچھے دوڑ پڑے۔ "یہ… یہ بہت خطرناک ہوتے ہیں، اگر کاٹ لیں تو موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔” دانیال نے خوف زدہ لہجے میں کہا۔ اس کے ماتھے پر پسینہ بہنے لگا تھا، باقی دونوں کا بھی کچھ اچھا حال نہیں تھا۔

"جبران، اینٹ کہاں ہے؟” فیونا نے اچانک اس کے خالی ہاتھ دیکھ کر پوچھ لیا۔ اور جبران بوکھلا گیا: "ارے… وہ… وہ تو میں نے ڈر کے مارے اندر پھینک دی ہے۔ اب تو وہ بچھوؤں میں چھپ گئی ہوگی۔” اس نے جلدی سے اندر بھی جھانک لیا، واقعی فرش بچھوؤں سے ڈھک چکا تھا۔ فیونا کو غصہ آ گیا۔ "تت … تم نے اینٹ گرا دی۔” فیونا کے چہرے کے تاثرات عجیب سے ہو گئے تھے۔ اتنی محنت کے بعد انجام یہ نکلا تھا۔ "اوہ جبران، یہ تم نے کیا کر دیا۔ ہم نے اتنی مشکلوں سے اسے حاصل کیا اور تم نے اسے اتنی آسانی سے کھو…” بات کرتے کرتے شدت غم سے اس کی زبان رک گئی۔ "میں چیخ پڑوں گی جبران، میں ٹھیک کہہ رہی ہوں۔” یہ کہہ کر وہ دوڑی اور زیتون کے درخت کے پاس کھڑی ہو کر زور زور سے چیخنے لگی۔ ذرا دیر بعد وہ واپس آ گئی۔

"اب طبیعت کیسی ہے، کچھ بہتری محسوس ہوئی؟” دانیال نے ڈرتے ڈرتے پوچھ لیا۔ اسے ہنسی آ رہی تھی لیکن اس نے خود پر قابو کیا ہوا تھا۔

"ہاں، کچھ بہتر محسوس کر رہی ہوں، پوچھنے کے لیے شکریہ۔” فیونا دھیرے سے بولی۔ یکایک جبران نے کہا: "میں نے سنا ہے کہ ایک قسم کی بوٹی ہوتی ہے جو بچھوؤں کو دور بھگا دیتی ہے۔” یہ کہہ کر وہ کچھ یاد کرنے کی کوشش کرنے لگا، اس کی آنکھیں چمکنے لگی تھیں۔ "اس کے نام میں لیڈی آتا ہے شاید۔ اور اس کے پھول زرد ہوتے ہیں، ہاں یاد آیا… لیڈی مینٹل!”

"ارے واہ، تمھیں تو کسی پھولوں کی دکان میں ہوناچاہیے، لگتا ہے بڑے ہو کر ماہر نباتات بنو گے۔” فیونا خوش ہو کر بولی۔ "ایسا کچھ نہیں ہے۔” جبران منھ بنا کر بولا: "میں اپنے گھر کے سامنے ایک خوب صورت باغیچہ بناؤں گا اور اس میں تمام قسم کے پھولوں والے پودے ہوں گے۔”

"اچھا، اب اس مسئلے کا حل کیسے نکالیں، یعنی یہ پودا یا بوٹی ہمیں کہاں سے ملے گی اور ہم اسے کیسے پہچانیں گے؟” دانیال نے درمیان میں مداخلت کر دی۔

"اس کے لیے تو ہمیں واپس ہائیڈرا جانا ہوگا۔ وہاں جڑی بوٹیوں والی کسی دکان سے لیڈی مینٹل کا پوچھیں گے۔” جبران نے جواب دیا۔

دانیال اچھل پڑا۔ "پاگل ہو گئے ہو کیا۔ اگر نکولس نے ہمیں دیکھ لیا تو۔ وہ ہمیں گدھا چوری کرنے کے الزام میں گرفتار کروا دے گا۔ کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہم یہ کام کل پر چھوڑ دیں، کیوں کہ میں بہت تھک چکا ہوں۔”

"نہیں، جب تک اینٹ ہمارے ہاتھ میں بہ حفاظت نہیں آ جاتی، تب تک ہم آرام سے نہیں رہ سکتے۔ اس کے اندر قیمتی پتھر ہے، اسے مت بھولو۔ ہم اسے ہی ڈھونڈنے آئے ہیں۔ ذرا سوچو، بادشاہ کیگان اور اس کا پورا خاندان اس کی اس کی حفاظت کرتے ہوئے مارا گیا تھا۔ ہاں ہم شہر جا کر وہاں کچھ آرام کر سکتے ہیں۔ سیاحوں کو دیکھیں گے، آئس کریم کھائیں گے اور پھر رات ہونے سے پہلے یہاں واپس آ جائیں گے۔ عین ممکن ہے کہ بچھو خود ہی کہیں جا چکے ہوں۔” فیونا نے سپاٹ لہجے میں کہا اور پھر آگے بڑھ کر خانقاہ میں جھانکا۔

"بچھو ہی بچھو ہیں ہر جگہ۔” وہ بڑبڑائی اور پھر تینوں ہائیڈرا شہر کی طرف چل پڑے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں