The news is by your side.

Advertisement

ابوظہبی، دوسرے ماحول دوست ہائیڈروجن فیول اسٹیشن کا قیام

ابوظہبی : متحدہ عرب امارات میں پہلے اسٹیشن کی شاندار کامیابی کے بعد دوسرے ہائیڈروجن اسٹیشن کا افتتاح کردیا گیا ہے جس کا مقصد توانائی کے لیے دستیاب دوسرے ذارئع کو بھی استعمال میں لانا ہے۔

بین الااقوامی خبر کے مطابق متحدہ عرب امارات میں دوسرے ہائیڈروجن اسٹیشن کے افتتاح کے موقع اعلیٰ حکام بھی موجود تھے جنہوں نے توانائی کی اس قسم کو استعمال میں لانے پر خوشی کا اظہار کیا، ہائیڈروجن کو سبز فیول یعنی ماحول دوست فیول کا نام دیا گیا ہے۔

ہائیڈروجن اسٹیشن متحدہ عرب امارات کی قومی آئل کمپنی (Adnoc )اور فضائی مادہ جن میں ہائیڈروجن فیول بھی شامل ہے کی سپلائی کرنے والی کمپنی کی مشترکہ کاوش ہے جس کا مقصد شہریوں کو ماحول دوست فیول فراہم کرنا ہے جس کے لیے توانائی کے دیگر ذرائع پر بھی کام کیا جا رہا ہے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کمپنی ڈائریکٹر سعود عباسی کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات کے گنجان آباد اور مصروف مقامات پر ہائیڈروجن اسٹیشن کے قیام کی خواہش ہے جس پر عمل کرتے ہوئے دبئی میں پہلے اور ابوظہبی میں دوسرے ہائیڈروجن اسٹیشن کا قیام کا کام مکمل ہوچکا ہے۔

ہائیڈروجن فیول پٹرول کی نسبت ماحول دوست آئل ہے جس کے استعمال سے آلودگی کے خاتمے میں مدد ملے گی تاہم اس فیول کے لیے خاص قسم کی گاڑیاں تیار کی جاتی ہے جو بجلی کی مدد سے چلتی ہیں۔

متحدہ عرب امارات کی قومی آئل کمپنی اور گاڑیاں بنانے والی معروف کمپنی میگا پروجیکٹ کے تحت ماحول دوست ٹریفک کے لیے کوشاں ہے جس کے تحت نئی گاڑیاں فروخت کے لیے لائی جائیں گی اور اسے عام آدمی تک رسائی دی جائے گی۔

ماہرین کا خیال ہے کہ پٹرول سے چلنے والی گاڑیاں کاربن کی بڑی مقدار فضاء میں منتقل کرتی ہیں جس کی وجہ سے جہاں اوزون تہہ کو خطرہ ہے وہیں رہائشیوں کو سانس لینے میں دقت اور پھپھڑوں کی مختلف بیماریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

متحدہ عرب امارات کی حکومت اپنے شہریوں کو پر سکون اور صحت مند ماحول فراہم کرنے کا عزم کیے ہوئے ہے جس کے لیے ہائیڈروجن سے چلنے والی گاڑیاں دستیاب ہوں گی جس کے بعد پٹرول پر انحصار کم سے کم ہوتا جائے گا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں