The news is by your side.

Advertisement

میں نے کبھی نہیں کہا کہ کرونا ’دھوکا‘ ہے: امریکی صدر

صحافیوں کی جانب سے 'معاندانہ' سوالات پر روزانہ کی وائٹ ہاؤس کرونا وائرس بریفنگز ختم کرنے کی دھمکی

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی امریکی میڈیا کے ساتھ چپقلش جاری ہے، اپنے ایک ٹویٹ کے ذریعے انھوں نے میڈیا کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا، امریکی صدر نے صحافیوں کی جانب سے ‘معاندانہ’ سوالات پر روزانہ کی وائٹ ہاؤس کرونا وائرس بریفنگز ختم کرنے کی بھی دھمکی دے دی۔

تفصیلات کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ میں نے کبھی نہیں کہا کہ کرونا ایک ’دھوکا‘ ہے، اس قسم کی بات کون کہہ سکتا ہے؟ میں نے یہ کہا تھا کہ بے کار ڈیموکریٹ اور میڈیا ’دھوکا‘ ہے۔

ٹرمپ نے اپوزیشن اور میڈیا کی ایک ساتھ سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ ان لوگوں کی جھوٹ بولنے پر جب پکڑ ہوئی تو انھوں نے غلطی مان بھی لی، لیکن اعتراف جرم کے باجود یہ لوگ جھوٹ بولنے سے باز نہیں آتے۔

ٹرمپ کا جراثیم کش کیمیکل پینے کا مشورہ، سوشل میڈیا پر طوفان

کرونا وائرس کے علاج سے متعلق عجیب و غریب اور متنازعہ بیانات دینے پر امریکی صدر نے اپنا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ علاج کبھی بھی بیماری سے برا نہیں ہو سکتا، آخر ان وائٹ ہاؤس نیوز کانفرنسوں کا مقصد اور کیا ہے، لیکن میڈیا مخالفت میں سوالات کے سوا کچھ نہیں پوچھتا۔

انھوں نے ایک بار پھر الزام لگایا کہ میڈیا درست طور پر حقائق بیان نہیں کرتا، انھیں بس ریکارڈ ریٹنگ ملتی ہے اور امریکی عوام کو جھوٹی خبریں، یہ میڈیا میرے وقت اور کوششوں کے قابل نہیں ہے کہ میں اس پر اپنا وقت اور کوششیں صرف کروں، یہ لنگڑا میڈیا بن چکا ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ گزشتہ جمعرات کو بھی جعلی میڈیا ڈاکٹر ڈیبرا برکس کے سوالات مجھ سے کرنے لگا، میں تو ان سوالات سے متعلق ڈاکٹر ڈیبرا کی رائے مانگ رہا تھا۔

یاد رہے کہ صدر ٹرمپ کا یہ تبصرہ ان کے اس متنازعہ بیان کے ایک دن بعد آیا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ لوگوں کو جراثیم کش کیمیکل کے انجیکشن لگوا کر کرونا وائرس کا مقابلہ کرنا چاہیے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں