The news is by your side.

Advertisement

سادہ لباس اہلکاروں‌ نے مجھے گرفتار نہیں اغواء کیا، شرجیل میمن

اسلام آباد: پیپلزپارٹی کے رہنماء شرجیل میمن نے کہا ہے کہ طبیعت کی ناسازی کے باعث سابق وزیراعلیٰ سندھ کی اجازت کے بعد بیرونِ ملک روانہ ہوا، عدالتوں کا سامنا کرنے کے لیے ملک واپس آیا تو گزشتہ رات ائیرپورٹ سے  اغوا کیا گیا۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پی پی کے رہنماء اور سابق وزیر نے کہا کہ بیرون ملک روانگی کے دو ماہ بعد ایگزیٹ کنٹرول لسٹ میں نام شامل کیا گیا، شاید نیب اورایف آئی اےکومعلوم ہی نہیں تھامیں ملک میں نہیں ہوں کیونکہ ای سی ایل میں نام اُس شخص کا ڈالا جاتا ہے جو ملک میں ہو۔

شرجیل میمن نے کہا کہ مجھے سنے بغیر ریفرنس دائر کیا گیا اور 2 سے تین ماہ بعد اچانک ایگزیٹ کنٹرول لسٹ میں نام شامل کردیا گیا، نیب یا کسی اور ادارے سے صفائی دینے کا کوئی نوٹس نہیں دیا گیا اور نہ ہی کسی نے مجھے طلب کیا۔

پی پی کے رہنماء کا کہنا تھا کہ وزارت کے دوران ہی طبیعت ناساز ہوئی اور ڈاکٹرز کی تجویز کے بعد سابق وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ سے اجازت لے کر علاج کے غرض سے بیرونِ ملک روانہ ہوا، ڈاکٹر کی اجازت کے بعد سفر کر کے وطن واپس پہنچا۔

پڑھیں: ’’ پیپلزپارٹی کےرہنماشرجیل میمن کی گرفتاری کےبعدرہائی ‘‘

سابق صوبائی وزیر نے دعویٰ کیا کہ ضمانت قبل از گرفتاری ہونے کے بعد گزشتہ روز جہاز سے اترتے ہی 8 سے 10 سادہ لباس اہلکاروں نے تعارف کرائے بغیر مجھے اغوا کرلیا اور ایک گاڑی سے دوسری گاڑی میں بیٹھا کر نیب کے افسران کے سامنے پیش کردیا تاہم کورٹ آرڈر دکھانے کے بعد انہوں نے مجھے جانے کی اجازت دی، سادہ لباس اہلکاروں سے اُن کی شناخت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بدتمیزی کی۔

شرجیل میمن نے کہا کہ گزشتہ روز پیش آنے والے واقعے پر کسی کے خلاف مقدمہ درج نہیں کرواؤں گا کیونکہ میرا مقصد کسی سے لڑنا نہیں اپنے مقدمات کا سامنا کرنا ہے تاہم اگر کسی کو مجھے گرفتار کرنا ہے تو ابھی آکر کرلے یا پھر نیب مجھے بتادے روز اُن کے دفتر جاکر سوالات کے جواب دینے کے لیے تیار ہوں۔

مزید پڑھیں: ’’ شرجیل میمن عدالت کے فیصلے کی پاسداری کریں گے: وزیراعلیٰ سندھ ‘‘

 پی پی ایم کے پی اے نے مطالبہ کیا کہ پاناما کیس، پی آئی اے ریفرنس میں نوازشریف اور ملوث افراد کے نام ای سی ایل میں ڈالے جائیں اور ثابت کیا جائے کہ پورے ملک کے لیے ایک ہی قانون ہے اور نیب صرف سندھ اور پی پی کے لیے نہیں بنائی گئی بلکہ پاکستان کے صوبے پنجاب میں بھی کارروائی کا حق رکھتی ہے۔

وفاقی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ وزیراعظم نوازشریف اور چوہدری نثار کی کل کی مہمان نوازی پر اُن کا مشکور ہوں کیونکہ کل میرے ساتھ جو رویہ برتا گیا وہ بہت ہی تکلیف دہ تھا، نیب نے پنجاب میں کارروائیاں شروع کیں تو وزیراعظم نے تقریر کر کے انہیں ڈرایا جس کے بعد وہاں کارروائیاں روک دی گئیں۔

صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ نیب ریفرنس میں میرے خلاف کسی سے رقم لینے یا براہ راست کرپشن کا الزام نہیں، عدالت میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں صرف دستخط کا ذکر کیا گیا ہے، میں عدالتوں کا سامنا کرنے کے لیے وطن واپس پہنچا اور کہتا ہوں کہ اگر کہیں قصور وار ہوں تو سزا دی جائے کسی سے رحم کی اپیل نہیں کروں گا۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں