The news is by your side.

Advertisement

والدہ کی نافرمانی کرنے پر جیل جانا پڑا، جمشید دستی

ملتان: رکن قومی اسمبلی جمشید دستی نے کہا ہے کہ والدہ کا حکم نہ ماننے اور اُن کی نافرمانی کرنے کی وجہ سے جیل جانا پڑا، 2018 کے انتخابات ہوتے ہی والدہ کا حکم مانتے ہوئے شادی کرلوں گا۔

مظفرگڑھ پہنچنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےعوامی راج پارٹی کے سربراہ نے کہا کہ حراست کے دوران حکومت مجھے پولیس کے ذریعے قتل کروانا چاہتی تھی تاہم عدلیہ نے مکمل تعاون کیا جس کی وجہ سے مجھے رہائی مل سکی۔

انہوں نے کہا کہ گرفتاری کے خلاف جن جماعتوں نے آواز اٹھائی میں اُن کا بے حد مشکور ہوں۔ جمشید دستی نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہ کہا کہ پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم نے میری رہائی کے لیے بہت کام کیا۔

پڑھیں: نوازشریف اب جیل جائیں گے، جمشید دستی

جمشید دستی نے آئندہ الیکشن میں حصہ لینے اور انتخابات کے فوری بعد شادی کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جو لڑکی میری حیثیت کے مطابق ہوگی اُسی سے شادی کروں گا تاہم اپنی شادی میں نوازشریف اور شہباز شریف کو نہیں بلاؤں گا۔

یاد رہے گزشتہ ماہ کی 8 تاریخ کو رکن قومی اسمبلی جمشید دستی کو مظفر گڑھ کی پولیس نے ڈنگا کینال کھولنے کا مجرم قرار دیتے ہوئے حراست میں لیا تھا جس کے بعد انہیں جیل منتقل کردیا گیا تھا۔

پولیس انتظامیہ نے جمشید دستی کے خلاف بغاوت ، اشتعال انگیز تقریر کا مقدمہ درج کر کے عدالت میں پیش کیا گیا تھا جہاں انہیں 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر پولیس کے حوالے بھی کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں : رکن قومی اسمبلی جمشید دستی جیل سے رہا

یاد رہے کہ جمشید دستی مظفر گڑھ کے حلقہ این اے 178 سے گزشتہ دو انتخابات سے کامیاب ہوتے آرہے ہیں ، انہوں نے 2010 میں بی اے کی جعلی ڈگری کا الزام لگنے پر نیشنل اسمبلی سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

بعد ازاں عدالتی احکامات کے بعد جمشید دستی نے دوبارہ ضمنی انتخابات میں حصہ لیا اور کامیاب ہوکر اسمبلی تک پہنچے، جمشید دستی نے 2012 میں پیپلزپارٹی سے علیحدگی کا اعلان کردیا تھا۔

اپریل 2013 میں جمشید دستی پر جعلی ڈگری کا الزام ثابت ہونے کے بعد الیکشن کمیشن کی جانب سے تین سال کی پابندی اور پانچ ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی تاہم انہوں نے سپریم کورٹ میں فیصلے کے خلاف پٹیشن بھی دائر کی تھی۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں