site
stats
انٹرٹینمںٹ

گلوکار قاسم ولی نے اپنی بیوی اداکارہ نور بخاری کو منانے کی کوشش تیز کر دیں

لاہور : گلوکار قاسم ولی نے اپنی بیوی اداکارہ نور بخاری کو منانے کی کوشش تیز کر دیں، خلع کا معاملہ مصالحتی سینٹر بھجوانے کیلئے عدالت سے رجوع کر لیا۔

تفصیلات کے مطابق اداکارہ نور بخاری کے شوہر قاسم ولی نے خلع کا معاملہ مصالحتی سینٹر بھجوانے کیلئے عدالت سے رجوع کر لیا، قاسم ولی نے درخواست میں موقف اپنایا ہے کہ وہ اپنی بیوی فلم اسٹار نور کو طلاق نہیں دینا چاہتا۔

قاسم ولی کے مطابق ان میں اور نور کے درمیان غلط فہمی کی بنا پر رنجشیں بڑھیں، جن کی بنا پر نور نے علیحدگی کیلئے خلع کا دعوی دائر کر دیا، وہ معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل اور غلط فہمی دور کرنا چاہتے ہیں لہذا اداکارہ نور بخاری کی جانب سے دائر خلع کے دعوی کو مصالحتی سینٹر کو بجھوایا جائے تاکہ معاملہ افہام و تفہیم سے حل کر لیا جائے۔

فیملی کورٹ نے قاسم علی کی درخواست پر فلم اسٹار نور کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا ہے۔.


مزید پڑھیں : اداکارہ نور نے خلع کا دعویٰ دائر کردیا


یاد رہے کہ اداکارہ نور نے اپنے شوہر گلوکار ولی سے علیحدگی کیلئے لاہور کی مقامی عدالت خلع کا دعویٰ دائر کیا تھا۔

اداکارہ نور کا کہنا تھا کہ رشتے کو بچانے کی بہت کوشش کی، ولی حامد کے ساتھ مزید نہیں چل سکتی، کوئی عورت نہیں چاہتی اس کا گھر اجڑے۔

یاد رہے کہ گذشتہ سال لالی ووڈ کی معروف اداکارہ نور بخاری کی چوتھی خفیہ شادی منظرعام پر آئی تھی ، انہوں نے گلوکار ولی حامد سے کیا گیا خفیہ نکاح کا دوسال بعد اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب پوری زندگی اپنے شوہر کے ساتھ گزارنے کا فیصلہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ اداکارہ نوراس سے قبل بھی 2 شادیاں کر چکی ہیں جو طلاق پر ختم ہوئی تھیں، انہوں نے پہلی شادی 2008 میں بھارتی شہری وکرم سے کی تھی جو 2010 میں ختم ہوگئی جبکہ انہوں نے دوسری شادی فلم پروڈیوسر فاروق مینگل سے کی جو صرف چار ماہ برقرار رہی۔

اس کے بعد تیسری شادی عون چوہدری سے کی تھی اور ان کی یہ شادی بھی طلاق پر ہی ختم ہوئی تھی، جس کے بعد انہوں نےچوتھی شادی ولی حامد خان سے کی۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top