ابنِ عربی کا نام اسلامی تاریخ کی ان شخصیات میں شامل ہے جنھیں اپنے علم و فضل کے ساتھ صوفی اور زبردست محقق و مصنّف ہونے کا امتیاز حاصل ہے۔ آپ کو شیخ اکبر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
ابنِ عربی 1165ء کو اندلس (اسپین) کے شہر مُرسیا (Murcia) میں پیدا ہوئے۔ ان کا نام محمّد رکھا گیا۔ آپ خود کو محمّد بن علی ابن العربی‘‘ لکھا کرتے تھے اور اسی نسبت سے پہچانے گئے۔ صوفیائے کرام میں انھیں ایسا امتیاز حاصل ہے کہ اگر کوئی صرف ’’شیخِ اکبر‘‘ کہے تو اس لقب سے واحد شخصیت جو ذہن میں ابھرتی ہے، ابن عربی کی ہے۔ اہلِ علم نے آپؒ کو محی الدّین کا لقب بھی دیا۔ ان کے والد، علی کا تعلق عرب خاندان ’’ طے‘‘ سے تھا۔
جب اندلس میں مسلم حکومت قائم ہوئی، تو ان کا کنبہ وہاں ہجرت کرگیا۔ والد ہسپانیہ کے حاکم محمّد بن سعید کے دربار سے وابستہ تھے۔ ابنِ عربیؒ ابھی آٹھ برس کے تھے کہ اقتدار پر مؤحدین نے قبضہ کرلیا اور برسوں اندلس پر حکومت کی۔ تب آپؒ کا خاندان لشبونہ ( لزبن، موجودہ پرتگالی دارالحکومت) منتقل ہوگیا۔ بعد ازاں اشبیلیہ میں آپ کے والد کو ملازمت مل گئی تو وہیں ابنِ عربیؒ نے اپنی جوانی گزاری اور وہیں تعلیم مکمل کی۔ آپ فوج میں بھرتی ہوئے، کاتب کے طور پر بھی کام کیا اور اسی زمانہ میں آپ کے علم و کمال اور روحانی علوم کا چرچا ہونے لگا، لوگ آپ کی عالمانہ گفتگو سن کر ششدر رہ جاتے۔ اہل اللہ کی مجالس میں نوجوانی میں باقاعدگی سے شرکت کے باعث اپنا زیادہ وقت ذکر و فکر میں گزارتے۔ اسی مقصد کے تحت حرمین شریفین، مراکش، تیونس، شام، عراق، فلسطین، مِصر اور ترکی کے سفر کیے۔ کئی دروس میں شرکت کی اور عالموں کی صحبت میں فیض پایا۔ مکّہ مکرّمہ میں دو سال مقیم رہے اور ایشیائے کوچک (اناطولیہ، موجودہ ترکی) چلے گئے۔ بعد میں سلجوق ریاست کے پایۂ تخت قونیا پہنچے، تو ان کے علم اور روحانی مرتبہ سے واقف سلطان نے بہت گرم جوشی سے استقبال کیا اور ان کو عزت دی۔ وہیں آپؒ کی ملاقات مولانا جلال الدین رومیؒ کے دوست، صدر الدین قونویؒ سے ہوئی، جنھوں نے آپؒ کی شاگردی اختیار کی اور خطّے میں آپؒ کے نظریات کی اشاعت کی۔ بعد میں پھر مکّہ مکرّمہ گئے۔ اور پھر دمشق کو اپنا وطن بنایا اور آخری سانس تک وہیں رہے۔ 16 نومبر 1240ء میں آپ نے دارِ بقا کو کوچ کیا۔
ابنِ عربیؒ کی اپنی تحریر کے مطابق، ستّر سے زائد مشایخ سے اکتسابِ فیض کیا۔ آپؒ نے اپنی روحانی تربیت میں حضرت خضر علیہ السّلام کا کثرت سے ذکر کیا ہے اور اُن سے ہونے والی کئی ملاقاتوں کا احوال بھی لکھا ہے۔ آپؒ کا روحانی سلسلہ کئی اور طریقوں سے بھی نقل کیا گیا ہے۔ ایّوبی اور سلجوق حکم راں حضرت ابنِ عربی کے معتقد تھے۔ آپؒ اپنے ان سیاسی اور امراء سے تعلقات کو اسلامی تعلیمات کی اشاعت، مسلم حکومتوں کی مضبوطی اور عام افراد کی بھلائی کے لیے استعمال کرتے تھے۔
ابنِ عربیؒ کی اصل وجۂ شہرت اُن کی بے مثال کتب ہیں۔ اُن کی کتب کی تعداد 800 تک بیان کی جاتی ہے، تاہم 500 کتب کی موجودگی پر اکثر اتفاق کیا جاتا ہے، جن میں سے کئی کتب تو ہزاروں صفحات پر مشتمل ہیں۔ اس کام کو بعض مسلمان محققین آپؒ کی کرامت قرار دیتے ہیں۔ان میں فتوحاتِ مکیہ اور فصوص الحکم، یہ دونوں کتابیں علمی اور روحانی حلقوں میں زیادہ مشہور ہیں۔ آپؒ بلند پایہ شاعر بھی تھے۔
ایک روایت کے مطابق، وفات کے وقت آپ سورۂ کہف کی آیت نمبر 65 لکھ رہے تھے۔ آپؒ کو جبلِ قاسیون پر سپردِ خاک کیا گیا۔ آپؒ نے پیش گوئی کی تھی کہ’’میری قبر گم ہو جائے گی اور اُس وقت دوبارہ ظاہر ہوگی، جب سین، شین میں داخل ہو گا۔‘‘ ایسا ہی ہوا کہ منگولوں کے حملوں کے نتیجے میں ہونے والی تباہی سے آپؒ کی قبر معدوم ہوگئی۔ جب 1516ء میں ترک سلطان، سلیم نے شام فتح کیا، تو آپؒ کی قبر ظاہر ہوئی۔ یعنی س( سلیم) ش( شام) میں داخل ہوا۔ اس پر سلطان نے مقبرہ تعمیر کروایا اور سلطان عبدالحمید نے اسے توسیع دی۔


