لاہور کے ایک اخبار میں ایک وکیل صاحب کے متعلق یہ خبر مشتہر ہوئی ہے کہ کوئی ظالم ان کا سرمایۂ علم و فضل اور دولتِ صبر و قرار اور آلاتِ کاروبار لوٹ لے گیا ہے۔
تفصیل مالِ مسروقہ کی یہ ہے ایک ڈگری بی۔ اے۔ کی ایک ایل ایل بی کی۔ ایک کیریکٹر سرٹیفیکٹ بدیں مضمون کہ حاملِ سرٹیفیکٹ ہذا کبھی جیل نہیں گیا۔ اس پر ہر قسم کے مقدمے چلے لیکن یہ ہمیشہ بری ہوا۔ الماری کا تالا توڑ کر یہ سرٹیفیکٹ لے گئے ہوں یا یہ سہواً خود ان کے پاس چلے گئے ہوں۔ وہ براہِ کرم واپس کر دیں۔ ان کو کچھ نہیں کہا جائے گا۔ اگر کوئی اور صاحب اس نابکار چور کو پکڑ کر لائیں تو خرچہ آمد و رفت بھی پیش کیا جائے گا۔ حلیہ ہے چور کا نہیں، سرٹیفیکٹوں کا، کہ ان پر بندے کا نام لکھا ہے۔ گلشن علی سمرقندی، سابق سوداگر شکرقندی۔ مقیم گوال منڈی۔
بعض کم فہم ظاہر بین کہیں گے کہ ڈگری سے کیا ہوتا ہے۔ وکیل صاحب شوق سے کاروبار جاری رکھیں۔ وکالت علم و عقل بلکہ زبان سے کی جاتی ہے۔ ڈگری کوئی تعویذ تھوڑا ہی ہے کہ جس کے بازو پر باندھا وہ گونگا بھی ہے تو پٹ پٹ بولنے لگا۔ فصاحت کے بتاشے گھولنے لگا۔ لیکن ہماری سینے تو ڈگری اور عہدہ دونوں کام کی چیزیں ہیں۔ بلکہ علم اور لیاقت کا نعم البدل ہیں۔ آناں را کہ ایں دہند آں نہ دہند۔ آپ نے منصب دار لوگوں کو دیکھا ہوگا کہ بظاہر بے علم معلوم ہوتے ہیں، لیکن وقت آنے پر ادب اور آرٹ کے اسر و رموز پر ایسی مدبرانہ گفتگو کرتے ہیں کہ دانا اندرآں حیراں بماند۔ جتنا بڑا عہدہ دار ہوگا اتنی ہی اونچی بات کرے گا۔ نیچے والوں کو خاطر میں نہ لائے گا۔
ڈگری کو بھی ہم نے اسی طرح لوگوں کے سر چڑھ کر بولتے دیکھا۔ ایک ہمارے مہربان ہیں۔ اردو زبان و ادب کے پروفیسر۔ ایک روز دست نگر کو دستِ نگر پڑھ رہے تھے اور ’’استفادہ حاصل کرنا‘‘ بول رہے تھے۔ ہم نے بڑے ادب سے ٹوکا لیکن وہ بکھر گئے اور پوچھنے لگے، کتنا پڑھے لکھے ہو تم؟ ہم نے کہا کچھ بھی نہیں بس حرف شناس ہیں۔ الف بے آتی ہے۔ بیس تک گن بھی لیتے ہیں۔ اس پر وہ اندر سے دو فریم شدہ چوکھٹے اٹھا لائے۔۔۔ ان پر ایک ڈگری ایم اے کی تھی۔ دوسری پی ایچ ڈی کی۔ بولے اب کہو تمہارا کہا سند ہے یا ہمارا فرمایا ہوا۔ اس دن پہلی بار ہمیں اپنی غلطی معلوم ہوئی۔ اب ہم بھی ریڈیو اور ٹیلی ویژن والوں کی طرح دستِ نگر، چشمِ دید، دم زدن اور استفادہ حاصل کرتے ہی بولتے اور لکھتے ہیں۔
ڈگری اور سرٹیفیکٹ کا چلن پرانے زمانے میں اتنا نہ تھا جیسا آج کل ہے۔ اس زمانے کے لوگ بیمار بھی سرٹیفیکٹ کے بغیر ہو جایا کرتے تھے اور بعض اوقات تو شدت مرض سے مر بھی جایا کرتے تھے۔ اب کسی کی علالت کو، خواہ سامنے پڑا ایڑیاں رگڑ رہا ہو، بلا سرٹیفیکٹ کے ماننا قانون کے خلاف ہے۔ پرانے زمانے میں لوگوں کے اخلاق بھی بلا سرٹیفیکٹ کے شائستہ ہوا کرتے تھے۔ اب جس کے پاس کیریکٹر سرٹیفیکٹ نہیں، سمجھو کہ اس کا کچھ اخلاق نہیں۔ اس کی نیک چلنی مشتبہ۔ اب تو مرنے جینے کا انحصار بھی سرٹیفیکٹ پر ہے۔ سانس کی آمد و شد پر نہیں۔ آپ نے اس شخص کا قصہ سنا ہوگا جو خزانے سے پنشن لینے گیا تھا۔ جون کی پنشن تو اسے مل گئی کیونکہ اس ماہ کے متعلق اس کے پاس بقید حیات ہونے کا سرٹیفیکٹ تھا۔ لیکن مئی کی پنشن روک لی گئی کہ جب مئی میں زندہ ہونے کا سرٹیفیکٹ لاؤ گے تب ادا کی جائے گی۔ اصول اصول ہے۔ اس منطق سے تھوڑا ہی توڑا جا سکتا ہے کہ جو شخص جون میں زندہ ہے، اس کے مئی میں بھی زندہ ہونے کا غالب امکان ہے۔ باقاعدہ سرٹیفیکٹ ہونا چاہیے۔
(ممتاز شاعر، ادیب، اور مشہور مزاح نگار ابنِ انشاء کے شگفتہ مضمون سے چند پارے)
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


