The news is by your side.

Advertisement

’’چاند نگر‘‘ کے ابنِ انشا کی برسی

آج نام وَر ادیب، شاعر اور مترجم ابنِ انشا کا یومِ وفات ہے۔ مزاح نگاری ان کی پہچان تھی۔ قارئین میں ان کے فکاہیہ کالم بہت مقبول ہوئے۔ ابنِ انشا نے سفر نامے بھی لکھے جن میں اپنے اسلوب کے سبب الگ پہچان بنانے میں کام یاب رہے۔ نظم کے میدان میں بھی ابنِ انشا نے خود کو منوایا اور ان کی تخلیقات آج بھی پڑھی اور پسند کی جاتی ہیں۔

ابنِ انشا کا اصل نام شیر محمد خان تھا، وہ 15 جون 1927ء کو موضع تھلہ ضلع جالندھر میں پیدا ہوئے۔ جامعہ پنجاب سے بی اے اور جامعہ کراچی سے اردو میں ایم اے کیا۔

1960ء میں روزنامہ ’’امروز‘‘ کراچی میں قلمی نام سے کالم لکھنے کا آغاز کیا اور بعد میں مختلف اخبارات کے لیے کالم لکھتے رہے۔ انھوں نے نیشنل بک کونسل کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں اور سفارت کار بھی رہے۔

ابنِ انشا کا پہلا مجموعہ ٔ کلام ’’چاند نگر‘‘ تھا اور بعد میں’’اس بستی کے ایک کوچے میں‘‘ اور ’’دلِ وحشی‘‘ بھی شایع ہوئی۔ ان کے سفر ناموں کو بہت شہرت ملی جس میں ان کے اسلوب نے قارئین کو متاثر کیا۔ ان کی ایک غزل انشا جی اٹھو اب کوچ کرو اس شہر میں جی کو لگانا کیا بہت مشہور ہوئی جب کہ ان کے مزاح پاروں اور سفر ناموں پر مشتمل کتب آوارہ گرد کی ڈائری، دنیا گول ہے، ابنِ بطوطہ کے تعاقب میں، چلتے ہو تو چین کو چلیے اور نگری نگری پھرا مسافر کو قارئین نے بے حد پسند کیا۔

طنز و مزاح اور فکاہیہ کالموں کے مجموعوں میں‌ اردو کی آخری کتاب، خمارِ گندم، باتیں انشا جی کی شامل ہیں جب کہ ان کا ترجمہ قصہ ایک کنوارے کا بھی کتابی شکل میں شایع ہوا۔

ابنِ انشا 11 جنوری 1978ء کو لندن میں انتقال کرگئے۔ وہ سرطان کے موذی مرض میں مبتلا تھے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں