پیر, فروری 9, 2026
اشتہار

ابراہیم اشک: معروف فلمی گیت نگار کا تذکرہ

اشتہار

حیرت انگیز

پاکستان اور بھارت کی فلم انڈسٹری میں کئی شعرا کو ان کے گیتوں کی بدولت بے مثال شہرت ملی۔ آج بھی ان شعرا کے گیتوں کی مقبولیت برقرار ہے اور اکثر ہم انھیں گنگناتے ہیں۔ ابراہیم اشک بھی ایسے ہی فلمی گیت نگار تھے جن کی شاعری بولی وڈ کی فلم "کہو نہ پیار ہے” کی مقبولیت کی وجہ بنی۔ یہی وہ فلم تھی جس نے بطور نغمہ نگار ابراہیم اشک کو فلم انڈسٹری میں پہچان دی۔

بھارت سے تعلق رکھنے والے ابراہیم اشک ان شاعروں اور نثر نگاروں میں شامل تھے جنھوں نے اردو اور ہندی دونوں زبانو‌ں میں شاعری کے ساتھ ساتھ کہانیاں اور ڈراموں کا اسکرپٹ بھی لکھا ہے۔ ابراہیم اشک 16 جنوری 2022ء کو ممبئی میں انتقال کرگئے تھے۔ آج ان کی برسی ہے۔ معروف نغمہ نگار اور صحافی موت سے پہلے ہفتہ بھر علالت کے باعث ممبئی کے نواح میں ایک اسپتال میں زیر علاج رہے تھے۔ وہ کرونا کی وبا کا شکار ہوئے تھے۔

ابراہیم اشک کا پیشہ صحافت رہا۔ انھوں نے بھارت کے متعدد اردو اخبارات میں کام کیا اور اپنا تخلیقی سفر بھی جاری رکھا۔ ابراہیم اشک جن کا اصل نام ابراہیم خاں غوری تھا۔ انھوں نے متعدد شعری اصناف میں طبع آزمائی کی جن میں غزل اور نظم کے علاوہ دوہے اور گیت شامل ہیں۔ ان کی شاعری کے متعدد مجموعے شائع ہوئے تھے جن میں الہام اور آگہی قابلِ ذکر ہیں۔ ابراہیم اشک نے شاعری کے علاوہ ادبی تنقید بھی لکھی۔ اقبال اور غالب پر ان کی کتابیں ان کی ثروت مند تنقیدی فکر کا ثبوت ہیں۔

مشہور فلمی نغمات کے خالق ابراہیم اشک 20 جولائی 1951ء کو اجین، مدھیہ پردیش میں میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اجین میں ہی مکمل کی، اور پھر ہندی ادبیات میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ شاعری کا آغاز کیا تو اپنا تخلّص اشک اختیار کیا۔ بولی وڈ کی مشہور فلم کہو نہ پیار ہے کے علاوہ انھوں نے کوئی مل گیا، جانشین، اعتبار، آپ مجھے اچھے لگنے لگے، کوئی میرے دل سے پوچھے جیسی فلموں کے لیے گیت تخلیق کیے تھے۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں