لاہور (25 جنوری 2026): ورلڈ کپ اسکواڈ کے اعلان کے دوران پاکستان ٹیم کے میگا ایونٹ کھیلنے کیلیے جانے یا نہ جانے کے سوال پر ہیڈ کوچ بول پڑے۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق اگلے ماہ بھارت اور سری لنکا کی مشترکہ میزبانی میں کھیلا جائے گا۔ میگا ایونٹ کے لیے قومی اسکواڈ کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ پاکستان ٹیم اپنے تمام میچز ہائبرڈ ماڈل کے تحت سری لنکا میں کھیلے گی۔
تاہم پاکستان کی جانب سے بنگلہ دیش کے ورلڈ کپ کھیلنے کے لیے بھارت نہ جانے کے موقف کی حمایت اور گزشتہ روز آئی سی سی کے بنگلہ دیش کو ٹورنامنٹ سے باہر کر کے اسکاٹ لینڈ کو شامل کرنے کے فیصلے کے بعد یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا پاکستان ٹیم میگا ایونٹ کھیلنے جائے گی یا نہیں؟
15 رکنی ورلڈ کپ اسکواڈ کے اعلان پر بھی ہیڈ کوچ عاقب جاوید سے یہی سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ہم سلیکٹرز ہیں اور ہمارا کام ٹیم کا انتخاب کرنا ہے۔ جہاں تک بات ہے ٹیم کے جانے یا نہ جانے کا فیصلہ کرنا تو یہ حکومت کا کام ہے۔
عاقب جاوید نے یہ بھی کہا کہ کنڈیشنز دیکھ کر ٹیم کمبی نیشن بنایا جاتا ہے اور ورلڈ کپ اسکواڈ کا اعلان کنڈیشن کے مطابق ہی کیا گیا ہے۔ بابر اعظم تجربہ کار کھلاڑی ہیں اور سری لنکا کی کنڈیشنز میں ان کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز پی سی بی چیئرمین محسن نقوی نے اسی سوال کے جواب میں کہا تھا کہ ٹی 20 ورلڈ کپ میں ہمارا فیصلہ وہی ہوگا جو حکومت پاکستان کا ہوگا۔ کیونکہ ہم آئی سی سی سے زیادہ حکومت کے تابع ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف پاکستان میں نہیں ان کی واپسی کا انتظار ہے اور وہی فیصلہ کریں گے۔ حکومت پاکستان کہتی ہے کہ نہیں کھیلنا تو پھر وہ 22 ویں ٹیم لے آئیں۔
محسن نقوی نے کہا تھا کہ بنگلہ دیش بڑا اسٹیک ہولڈر ہے اور ان کے ساتھ نا انصافی ہو رہی ہے۔ آئی سی سی میٹنگ میں بھی کہا تھا کہ دہرا معیار نہیں ہونا چاہیے۔ بنگلہ دیش کو ہر صورت ورلڈ کپ میں کھلانا چاہیے۔
ورلڈ کپ میں شرکت کے لیے پاکستان کا فیصلہ کیا ہوگا؟ محسن نقوی نے بتا دیا
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


