(7 جنوری 2026): ٹی 20 ورلڈ کپ کھیلنے کے بھارت آنے والی ٹیموں میں پاکستانی نژاد اور پاسپورٹ رکھنے والے کرکٹرز کو ویزوں میں مشکلات کا امکان ہے۔
بھارت جو کھیل میں ہمیشہ سیاست کو لا کر انہیں متنازع بناتا ہے۔ اب آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ میں بھی یہی وطیرہ اپناتے ہوئے پاکستانی پس منظر اور پاسپورٹ رکھنے والے دیگر ممالک کے کرکٹرز کو ویزے دینے میں رکاوٹیں پیدا کر سکتا ہے۔
آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ جو اگلے ماہ 7 فروری سے بھارت اور سری لنکا کی مشترکہ میزبانی میں کھیلا جا رہا ہے۔ اس میگا ایونٹ میں پہلی بار ریکارڈ 20 ٹیمیں شرکت کر رہی ہیں۔ ان ٹیموں میں کئی ایسی بھی ہیں، جن کے اسکواڈ میں وہ کرکٹرز شامل ہیں جو پاکستانی پس منظر رکھتے یعنی پاکستانی نژاد ہیں یا پھر پاکستانی پاسپورٹ ان کے پاس ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس اور کرکٹ ویب سائٹ کے مطابق ورلڈ کپ میں شرکت کرنے والی کم از کم 6 ٹیموں کے کھلاڑیوں کو بھارتی ویزا حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، کیونکہ ان ممالک میں مقیم پاکستانی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے کرکٹرز شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اس حوالے سے متعلقہ بورڈز نے آئی سی سی اور بھارتی کرکٹ بورڈ کو بھی خط لکھا، مگر انہیں اب تک کوئی جواب نہیں ملا اور نہ ہی کوئی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔
دوسری جانب پاکستان ٹیم اس حوالے سے پرسکون ہے کیونکہ وہ معاہدے کے تحت 2027 تک ہونے والے ٹورنامنٹس میں اپنے تمام میچز بھارت کے بجائے نیوٹرل وینیو پر کھیلے گی اور آنے والے ورلڈ کپ میں بھی وہ سری لنکا میں اپنے میچز کھیلے گی۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بھارت نے 2023 کے ون ڈے ورلڈ کپ میں بھی پاکستان ٹیم کے کھلاڑیوں کو ویزے دینے میں ٹال مٹول سے کام لیا تھا اور ٹورنامنٹ شروع ہونے سے چند روز قبل پاکستانی کرکٹرز کو ویزے جاری کیے تھے۔
ہم وہاں محفوظ نہیں، ورلڈ کپ کھیلنے بھارت کسی صورت نہیں جائیں گے، ڈائریکٹر بنگلہ کرکٹ بورڈ


