بدھ, فروری 11, 2026
اشتہار

ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 کے قومی اسکواڈ میں شمولیت کا کون اہل؟ 2 سالہ کارکردگی جانیں

اشتہار

حیرت انگیز

کراچی (16 جنوری 2026): اگلے ماہ ٹی 20 ورلڈ کپ کے لیے قومی اسکواڈ کا اعلان جلد ہونے والا ہے دو سال میں قومی کرکٹرز کی کارکردگی کا ایک جائزہ لیتے ہیں۔

آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 اگلے ماہ 7 فروری سے 8 مارچ تک بھارت اور سری لنکا کی مشترکہ میزبانی میں کھیلا جا رہا ہے۔ جس کے لیے پی سی بی کے سلیکٹرز نے اسکواڈ کا اعلان کر رکھا ہے۔

سال 2024 میں امریکا میں ہونے والے آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ سے اب تک پاکستانی کرکٹرز کی انفرادی کارکردگی کیا رہی، اس کا ایک جائزہ پیش کیا جا رہا ہے کہ ان دو سالوں میں پرفارمنس کے اعداد وشمار کیا کہتے ہیں۔

2024 کا ٹی 20 ورلڈ کپ پاکستان کے لیے بدترین اور ایک ڈراؤنا خواب ثابت ہوا۔ کیونکہ اس فارمیٹ میں سب سے زیادہ سیمی فائنلز کھیلنے والی ٹیم پہلی بار پہلے راؤنڈ سے آگے نہ بڑھ سکی اور امریکا جیسی نو آموز ٹیم سے ہار کر ٹورنامنٹ سے ہی باہر ہو گئی۔

اس ورلڈ کپ میں بدترین کارکردگی کے بعد پی سی بی کے کرتا دھرتاؤں نے حکمت عملی تبدیل کی اور بڑے ناموں کو ٹیم سے باہر کر کے نوجوانوں اور تیز کھیلنے والوں کو لایا گیا۔

تب سے اب تک ٹیم نے 46 ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے، جن میں سے 24 جیتے، 20 ہارے اور 2 بے نتیجہ رہے۔

ٹی 20 ورلڈ کپ 2024 میں ٹیم کی کپتانی کرنے والے بابر اعظم جنہیں میگا ایونٹ کے بعد ایک سال تک قومی ٹیم سے باہر رکھا گیا۔ جب وہ واپس آئے تو اپنی پرانی فارم واپس نہ لا سکے۔

بابر اعظم نے 13 میچ میں 25.8 کی اوسط سے صرف 284 رنز بنائے اور ان کا اسٹرائیک ریٹ 119.83 رہا۔

ان کے ساتھ ہی مختصر فارمیٹ سے باہر کیے جانے والے وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان کو تو اس مدت میں صرف چار میچز ہی کھیلنے کو ملے، لیکن وہ بھی اس موقع سے فائدہ نہ اٹھا سکے اور 25 کی اوسط سے صرف 101 رنز ہی بنا سکے جب کہ ان کا اسٹرائیک ریٹ تو 100 سے بھی کم رہا، جس کے باعث وہ اب دوبارہ طویل عرصہ سے ٹی 20 فارمیٹ سے باہر ہیں۔

ٹی 20 کپتان سلمان علی آغا نے سب سے زیادہ 42 میچ کھیلے اور 736 رنز بنائے۔ ورلڈ کپ 2024 کے بعد ٹی 20 فارمیٹ میں صرف دو بلے بازوں حسن نواز اور محمد حارث نے سنچریاں بنائیں۔

اوپنر صاحبزادہ فرحان نے 32 میچوں میں سب سے زیادہ 857 رنز اسکور کیے۔ اوپنر صائم ایوب صائم ایوب 35 میچ میں 800 رنز کے ساتھ دوسرے ٹاپ اسکورر رہے۔

جارح مزاج اوپنر فخر زمان نے 23 میچ میں 517 رنز بنائے۔ عثمان خان نے 19 میچوں میں 226 رنز 112 کے اسٹرائیک ریٹ اور 20.5 کی معمولی اوسط سے بنائے۔

اگر بولنگ کے شعبہ میں بات کی جائے تو پیس ٹرائیکا میں حارث رؤف سب سے کامیاب بولر رہے اور 22 میچز کھیل کر 31 بیٹرز کا شکار کیا۔ انہوں نے 9 کی اوسط سے رنز دیے۔

پاکستان ون ڈے ٹیم کے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے 26 میچز میں 30 جب کہ نسیم شاہ نے 6 میچز میں اتنی ہی وکٹیں حاصل کیں۔

آل راؤنڈرز کی کارکردگی دونوں شعبوں میں اطمینان بخش رہی۔ سب سے لاجواب کارکردگی محمد نواز کی رہی، جنہوں نے 28 میچز میں 390 رنز بنانے کے ساتھ بولنگ کے شعبے میں شاندار ہیٹ ٹرک سمیت 37 شکار بھی کیے۔

فہیم اشرف نے 30 میچوں میں 233 رنز بنانے کے ساتھ 25 وکٹیں بھی حاصل کیں۔
شاداب خان اس دوران اپنی انجری سے بھی نبرد آزما رہے، جس کے باعث وہ اس مدت میں صرف 10 میچز ہی کھیل سکے۔ ان میچز میں انہوں نے بلے سے 137 رنز بنانے کے ساتھ بولنگ سے 7 وکٹیں بھی اڑائیں۔

اسپننگ شعبے میں ابرار احمد اور عثمان طارق کی مسٹری نے بلے بازوں کو خوب تنگ کیا۔ ابرار نے 28 میچ کھیل کر 38 بیٹرز کو نشانہ بنایا تو عثمان طارق نے صرف دو میچوں میں ہیٹ ٹرک کے ساتھ 6 وکٹیں لیں۔۔

سلمان مرزا نے توقعات سے بڑھ کر صلاحیتیں منوائیں۔ 12 میچز میں 19 وکٹیں اور اکانومی ریٹ بھی صرف 6.19 کے ساتھ۔

عبدالصمد اور وسیم جونیئر نے پانچ، پانچ وکٹیں لیں۔ سینئر پیسر حسن علی کو صرف 6 میچز ملے اور ان کی کارکردگی مناسب رہی۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں