(23 جنوری 2026): بنگلہ دیش ٹی 20 ورلڈ کپ کیلیے اپنی ٹیم بھارت نہیں بھیج رہا تاہم بائیکاٹ کی صورت میں اسے بھاری مالی نقصان ہوگا۔
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے سیکیورٹی خدشات کے باعث اپنی ٹیم کو آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ کے لیے بھارت نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا حتمی اعلان گزشتہ بی سی بی حکام نے کیا۔
تاہم آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ نہ کھیلنے کے فیصلے پر اگر بنگلہ دیش قائم رہتا ہے تو میگا ایونٹ کے بائیکاٹ کی صوت میں اس کو بھاری مالی نقصان برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق اگر بنگلہ دیش نے ٹی 20 ورلڈ کپ نہیں کھیلا تو اس کو 325 کروڑ ٹکا کا نقصان ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق میگا ایونٹ کے بائیکاٹ کی صورت میں بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کو سالانہ آمدن کی کمائی کے تقریباً 60 فیصد، براڈ کاسٹ اور اسپانسر شپ کی مد میں ہونے والی آمدن سے بھی ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے۔
واضح رہے کہ آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 کا آغاز 7 فروری سے بھارت اور سری لنکا کی مشترکہ میزبانی میں ہو رہا ہے۔
گزشتہ ماہ بنگلہ پیسر مستفیض الرحمان کو آئی پی ایل سے نکالے جانے اور بھارت میں احتجاج کے بعد بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے بھارت کو اپنے کھلاڑیوں کے لیے غیر محفوظ قرار دیتے ہوئے آئی سی سی سے اپنے میچز سری لنکا منتقل کرنے کی درخواست کی تھی جب کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس فیصلے کی حمایت کی تھی۔
بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم ورلڈ کپ کھیلنے بھارت نہیں جائے گی، فیصلہ ہو گیا!
تاہم دو روز قبل آئی سی سی کی میٹنگ میں بنگلہ دیش کی درخواست مسترد کرتے ہوئے اس کے میچز سری لنکا منتقل کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
ٹی 20 ورلڈ کپ کیلیے ممکنہ قومی اسکواڈ سامنے آ گیا! سابق کپتان باہر
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


