The news is by your side.

Advertisement

نیویارک : غیر قانونی تارکین وطن کیخلاف بڑا آپریشن، پاکستانیوں سمیت 225 تارکین وطن گرفتار

نیو یارک: امریکی شہر  نیویارک میں غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف بڑا آپریشن کیا گیا،آپریشن میں پینتیس پاکستانیوں سمیت دو سو پچیس تارکین وطن کو گرفتار کر لیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق امیگریشن اینڈ کسٹم انفورسمنٹ کے حکام کی جانب سے غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف نیو یارک میں بڑا  آپریشن کیا گیا، آپریشن میں 225تارکین وطن کوگرفتارکر لیاگیا، گرفتار تارکین وطن میں پاکستانیوں کی بڑی تعدادبھی شامل ہیں۔

غیر قانونی طور پر مقیم تارکین وطن کیخلاف آپریشن نیویارک سٹی، لانگ آئی لینڈ اور ہڈسن ویلی میں کیا گیا، جو چھ روز تک جاری رہا۔

امریکی میڈیا کے مطابق ڈیپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکورٹی کی خصوصی ٹیم نے ریستوران، پٹرول پمپس اور دکانوں پر چھاپے مارے، گرفتار تارکین وطن میں پینتیس پاکستانیوں سمیت بنگلادیش، چین، جنوبی افریقہ، جنوبی افریقہ، صومالیہ کےباشندے بھی  شامل ہیں ۔

ہوم لینڈ سیکورٹی کے مطابق تمام گرفتار افراد کو جلد ڈی پورٹ کیا جائے گا۔


مزید پڑھیں : ٹرمپ نے غیر قانونی تارکین وطن کے معاہدے کو ختم کرنے کا اعلان کردیا


امریکی محکمہ امیگریشن اینڈ کسٹم انفورسمنٹ کے مطابق ایسے تارکین وطن جو ڈپورٹیشن کے باوجود بار بار ملک میں داخل ہورہے ہیں ان کے خلاف وفاقی قوانین کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

یاد رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غیر قانونی تارکین وطن کے معاہدے کو ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے شمالی امریکا کے آزاد تجارت کے معاہدے ’نافٹا‘ کو بھی ختم کرنے کا عندیہ  دیا تھا۔

اس سے قبل امریکی صدر نے امیگرنٹس کا ڈاکا معاہدہ ختم کرنے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ  ایسے افراد جو بچپن سے امریکا میں مقیم ہیں اور اپنے والدین کے ساتھ امریکا آئے تھے اب انہیں رہائش اور شہریت کی قانونی حیثیت دئیے جانے کا کوئی معاہدہ نہیں ہوگا۔

خیال رہے گزشتہ سال جون میں امریکی ایوان میں غیرقانونی تارکین وطن کے خلاف کریک ڈاؤن کا بل منظور  کیا گیا تھا ،  بل کے تحت امریکا میں موجود غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کی جائے گی۔

واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے تارکین وطن سے متعلق ہمیشہ سخت مؤقف رکھا ہے اور ان کے برسر اقتدار آتے ہی متعدد تارکین وطن کو ڈی پورٹ کردیا گیا تھا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں