site
stats
صحت

آئس کی تیاری میں زائد المعیاد ادویات کے استعمال کا انکشاف

کراچی: رینجرز کی ایک کارروائی میں انکشاف ہواہے کہ ایکسپائر ادویات کو امراء کے زیر استعمال نشے’ آئس ‘ کی تیاری میں استعمال کیا جارہاہے‘ ساتھ ہی یہ زائد المعیاد ادویات پولٹری فیڈ میں بھی استعمال کی جارہی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق رینجرز نے کچھ روز قبل لیاری کے ایک کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق رکھنے نوجوان کو حراست میں لیا‘ یہ نوجوان اعلیٰ طبقے کے نشے ’آئس‘ کی لت میں مبتلا تھا‘ رینجرز نے اس سے حاصل ہونے والی اطلاعات کی بنیاد پر مزید چھاپہ مار کارروائیاں کیں۔

رینجرز ذرائع کے مطابق نوجوان کی فراہم کردہ اطلاعات کی روشنی میں حسین نامی ایک شخص کو گرفتار کیا گیا جس کے قبضے سے بڑی مقدار میں دردکش اور موسمی بیماریوں کے خلاد موثر ادویات برآمد ہوئیں۔ رینجرز کے کرنل نیشان کے مطابق یہ امر تعجب خیز تھا کہ منشیات کے ایک اڈے میں اتنی بڑی تعداد میں ادویات کا آخر کیا کام ہے۔

یہیں سے ایک ہولناک کہانی کا آغاز ہوا ۔ تفتیش سےبات کھلی کہ پاکستان میں ایفڈرین پہ پابندی کے بعددرد کشا ادویات کی مانگ میں اچانک سے اضافہ ہوگیا ہے اور ا س کی وجہ ان ادویات میں ایفڈرین کا استعمال ہے جو کہ آئس نامی نشے میں بھی کا استعمال ہوتا ہے۔

حکومت کے جانب سے عائد کردہ پابندی کے بعد انسانیت کے سوداگروں نے حل یہ نکالا کہ نزلہ‘ بخار‘ کھانسی وغیرہ کی وہ ادویات بھاری مقدار میں خریدنا شروع کردیں جن کی معیاد پوری ہوچکی تھی اور وہ مختلف گوداموں میں رکھی ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ ان ادویات کی تلاش بھی شروع کردی ‘ جو ادویہ ساز اداروں کے پاس بناتے ہوئے کسی نقص کی وجہ سے قابل استعمال نہیں رہیں ۔ ان ادویات میں ایفڈرین کے متبادل کیمیکل استعمال ہوتا ہے اور اس سے آئس بنانے میں مدد ملتی ہے ۔

کراچی میں رینجرز نے مزید کارروائیاں کرتے ہوئے اس مذموم دھندے سے جڑے نو افراد کو حراست میں لیا ہے اور اب تک موت کے ان سوداگروں کے چار گودام سیل کیے جاچکے ہیں ‘ اس نیٹ ورک کا مکمل سدباب کرنے کے لیے مزید کارروائیاں جاری ہیں ۔

یہ بات پیش نظر رہے کہ ان ادویات میں استعمال ہونے والے کیمیکل کو صرف عالمی ادویہ ساز ادارے یا مقامی لائسنس یافتہ کمپنیاں ہی منگوا سکتی ہیں اور یہ بات منشیات فروش جانتے ہیں‘ اسی لیے انہوں نے نچلی سطح کے لوگوں کو استعمال کرکے وہ نقائص سے بھری ادویات خریدنا شروع کیں ۔

کراچی کے مختلف علاقوں میں ان تمام ادویات کے ساتھ دو کام ہوئے

پہلا – ان کا پاؤڈر بننا شروع ہوا۔

دوسرا- معیاد پوری ہونے والی یہ ادویات نئے لیبل کے ساتھ کراچی سے ملک بھر میں فروخت کی جانے لگیں ۔

جن گولیوں کا پاؤڈر بننے لگا‘ انہیں کوئٹہ کے دو تاجر کراچی آکر خریدنے لگے اور اس کے بعد یہ پاؤڈر کوئٹہ کے راستے افغانستان جانے لگا جہاں سے آئس کی شکل میں نوجوان نسل کی رگوں میں بہنے لگا ۔ یاد رہے کہ آئس امیر زادوں کا شوق ہے اور اس کی ایک چھٹاک مقدار بھی بھی ہزاروں روپے میں ملتی ہے ۔

موت کے ان سوداگروں نے یہیں پر بس نہیں کی بلکہ ایکسپائر ادویات کا پاؤڈر بطور دوا مچھلی‘ مرغی اور مویشیوں کی فیڈ میں بھی استعمال ہورہا ہے ۔ اورفارمی مر غی ‘ مچھلی اور گائے کے دودھ کے ذریعے یہ زہر عوام کے جسم میں ان کے اپنے خرچے پر داخل ہورہا ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

 

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top