site
stats
ماحولیات

خبردار! سمندری ساحلوں پرآباد شہرخطرے میں ہیں

قطب شمالی اور جنوبی پر تحقیق کرنے والے مختلف بین الاقوامی اداروں نے کہا ہے کہ اس سال نومبر میں قطبین پر برف کی کم ترین مقدار ریکارڈ کی گئی ہے جو عالمی ماحول کے نقطہ نگاہ سے انتہائی تشویش ناک ہے‘ اس کے سبب ساحلی شہر خطرے میں ہے۔

قطبین (یعنی آرکٹک اور انٹارکٹیکا) پر قائم امریکا، جرمنی، ہالینڈ، فرانس، برطانیہ اور دیگر ممالک کے علاوہ بین الاقوامی موسمیاتی اسٹیشنوں نے مشترکہ طور پر یہ انکشاف کیا ہے کہ اس سال نومبر کے مہینے میں قطبین پر 37 لاکھ 60 ہزار مربع کلومیٹر جتنی برف کم ہوئی ہے جو بھارت کے رقبے سے بھی زیادہ ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اعداد و شمار تشویش ناک ہیں لیکن ان کے لیے حیران کن ہر گز نہیں کیونکہ اس سال قطب شمالی (آرکٹک) پر پہلے ہی نومبر میں معمول سے 20 ڈگری سینٹی گریڈ تک زیادہ کا درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا تھا۔

post-1

جرمن سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس سال نومبر میں قطب شمالی پر برف کا مجموعی رقبہ 90 لاکھ 80 ہزار مربع کلومیٹر ریکارڈ کیا ہے جو اب تک نومبر میں آرکٹک پر برف کا سب سے کم رقبہ بھی ہے۔اس سے پہلے نومبر کے مہینے میں قطبین پر
کم ترین برف کا عالمی ریکارڈ 2006 میں قائم ہوا تھا لیکن اس سال برف کی کمی نے اسے بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

یاد رہے کہ قطبین پر مسلسل پگھلتی ہوئی برف عالمی ماحول کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ 100 سال کے دوران سمندر کی سطح میں 20 سینٹی میٹر (8 انچ) تک کا اضافہ ہوچکا ہے جس کی وجہ زمین پر مسلسل بڑھتی ہوئی انسانی سرگرمیاں اور نتیجتاً مسلسل بڑھتی ہوئی آلودگی ہیں۔

خدشہ ہے کہ اگر قطبین کی ساری برف پگھل گئی تو دنیا بھر میں سمندروں کی سطح آج کے مقابلے میں 216 فٹ (66 میٹر) تک بلند ہوجائے گی اور سارے کے سارے ساحلی شہر ڈوب جائیں گے۔

post-2

ماہرین کے مطا بق بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور قطبین پر تیزی سے کم ہوتی ہوئی برف کے نئے سے نئے ریکارڈ اسی طرف اشارہ کررہے ہیں کہ اگر زمینی ماحول درست کرنے کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خطرناک موقع شاید ہماری توقعات سے بہت پہلے ہی آجائے گا۔ واضح رہے کہ ماہرین سمندروں کے کناروں پر واقع شہروں کے صفحہ ہستی سے مٹنے کی پیشن گوئی کر چکے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top