ہمالیائی خطے میں مصنوعی گلیشیئرز کی تخلیق -
The news is by your side.

Advertisement

ہمالیائی خطے میں مصنوعی گلیشیئرز کی تخلیق

دنیا بھر میں موجود گلیشیئرز میٹھے پانی کا سب سے اہم ذریعہ ہیں جہاں سے گرمیوں میں برف پگھل کر دریاؤں میں آتی ہے۔ ہر سال برفباری میں ان گلیشیئرز پر برف جمنا، اور پھر گرمی کے موسم میں اس برف کا پگھل کر نیچے آںا دنیا بھر میں پانی کی ضروریات پورا کرنے کے لیے ضروری ہے۔

تاہم اب درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے کے باعث یہ گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ اس کے 2 نقصانات ہیں۔ پہلا یہ ہے کہ جب ان پگھلتے گلیشیئرز سے بہت سارا پانی دریاؤں میں آئے گا تو دریا کی سطح بلند ہوجائے گی جس سے آس پاس کی آبادیوں کو سیلاب کا سامنا ہوگا۔

یہ سلسلہ کئی سالوں تک جاری رہے گا، آہستہ آہستہ گلیشیئرز پگھل کر ختم ہوجائیں گے جس کے بعد دریاؤں میں پانی آنا بند ہوجائے گا اور یوں پانی کی قلت واقع ہوتی جائے گی۔ یہ ان گلیشئرز کے پگھلنے کا دوسر اور خطرناک نقصان ہوگا۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں گلیشیئرز پگھلنے کی رفتار میں اضافہ

ایک اور وجہ درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے سردیوں کے موسم کی مدت میں کمی ہے۔ اب دنیا بھر میں گرمیاں جلدی آجاتی ہیں، دیر تک رہتی ہیں، اور بہت شدید ہوتی ہیں جن کی وجہ سے سردیوں کا موسم مختصر وقت کے لیے آتا ہے۔

گرمی کی شدت کی وجہ سے گلیشیئروں کی برف بھی زیادہ مقدار اور رفتار سے پگھل جاتی ہے۔

جن مقامات پر گلیشیئرز موجود ہوتے ہیں وہ علاقے دوسرے علاقوں کی نسبت ٹھنڈے ہوتے ہیں اور اس مقام پر رہنے والے انسان اور جنگلی حیات اس ٹھنڈے موسم کے عادی ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیں: برفانی علاقے تباہی کی جانب گامزن

تاہم اب ان مقامات کا درجہ حرارت بڑھ گیا ہے اور یہاں معمول سے زیادہ گرمی ہو رہی ہے جس سے یہاں کے رہنے والے سخت پریشانی کا شکار ہیں۔

اس مشکل سے کسی حد تک نمٹنے کے لیے ہمالیائی خطے میں رہنے والے ایک سائنسدان سونم ونگ چک نے ایک انوکھا طریقہ نکالا۔

لداخ میں واقع ان کے گاؤں میں اب گلیشیئرز سے اتنا پانی نہیں آتا جس سے ان کی زمینیں سیراب ہوں یا پانی کی ضروریات پوری ہیں۔

چنانچہ انہوں نے گاؤں والوں کی مدد سے مصنوعی گلیشیئرز تخلیق کرنا شروع کردیے۔

ice-2

اس کے لیے وہ سخت سردیوں کے موسم میں کسی مقام پر کچھ برف جما کر اس کے اندر ایک پائپ نصب کردیتے ہیں۔ اس پائپ کے ذریعے سے پانی نکل نکل کر گلیشیئر کے اوپر جمتا جاتا ہے جس سے مصنوعی گلیشیئر کی اونچائی میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔

ice-4

ice-3

آہستہ آہستہ یہ ایک تکون پہاڑی کی شکل اختیار کرجاتا ہے۔ اسے برفانی اسٹوپا کا نام دیا گیا ہے کیونکہ یہ مہاتما بدھ کی دفن شدہ راکھ کے مقام اسٹوپا کے مماثلت سے رکھتے ہیں۔

یورپی جیو سائنس یونین کا کہنا ہے کہ سنہ 2100 تک ہمالیہ کے 70 فیصد برفانی گلیشیئرز پگھل کر ختم ہوجائیں گے۔

دوسری جانب درجہ حرارت میں اضافے کے باعث پاکستان میں چترال اور گلگت بلتستان میں واقع 5000 گلیشیئرز بھی تیزی سے پگھل رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق گزشتہ برس گرمیوں کے موسم میں گلیشیئرز سے بہنے والے پانی کے اوسط بہاؤ میں اضافہ دیکھا گیا جس سے دریائے سندھ میں بھی پانی کی سطح میں اضافہ ہوا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں