The news is by your side.

Advertisement

امریکی صدر کا اقدام ، عالمی عدالت انصاف بھی اپنے مؤقف پر ڈٹ گئی

دی ہیگ : امریکی صدر کی جانب سے پابندیاں عائد کرنے پر عالمی عدالت نے افسوس کا اظہار کیا ہے، ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکی حکومت کے آئی سی سی پر حملے ناقابل قبول ہیں۔

تفصیلات کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب عالمی عدالت انصاف کے کارکنان پر لگائی جانے والی پابندیوں پر عالمی عدالت انصاف بھی اپنے موقف پر ڈٹ گئی، پابندیوں کے اعلان پر اسمبلی بیورو کا اہم اجلاس طلب کرلیا۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کے اقدامات پر افسوس ہے، ڈونلڈ ٹرمپ نے قانون کی حکمرانی میں مداخلت کی کوشش کی، عالمی عدالت انصاف پر امریکی حکومت کے حملے ناقابل قبول ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ یہ اقدامات عالمی عدالت کے اہلکاروں پر اثر انداز ہونے کی ناکام کوشش ہے، عالمی عدالت پر حملہ دراصل مظالم کا شکارہونے والے بے گناہوں پر حملہ ہے۔

ترجمان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عالمی عدالت اپنے اہلکاروں کےساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے، امریکا نےاحتساب کو یقینی بنانے کی کوشش کو نقصان پہنچایا۔

عالمی عدالت کے ترجمان کے مطابق افغانستان میں جنگی جرائم کی تحقیقات کی اجازت طلب کی گئی تھی، جنگی جرائم کی تحقیقات کی اجازت2017میں طلب کی تھی، پراسیکوٹر کا کہنا ہے کہ امریکی ، افغان فوج اور سی آئی اے جنگی جرائم کی مرتکب ہوئی تھیں۔

مزید پڑھیں : امریکی صدر نے عالمی عدالت کے اہلکاروں پر پابندیاں عائد کردیں

بعد ازاں امریکی دباؤ پر تحقیقات کی ابتدائی درخواست کو اپریل2019میں مسترد کردیا گیا تھا تاہم مارچ2019میں عالمی عدالت اپیل چیمبر نے تفتیش کے حق میں فیصلہ سنایا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں