اسلام آباد (8 اپریل 2026): اسلام آباد ہائیکورٹ میں شہری کا شناختی کارڈ بلاک کیے جانے کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی، جس میں عدالت نے سیشن اور ایڈیشنل سیشن ججز کے اختیارات پر سوال اٹھا دیا۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے شہریوں کے شناختی کارڈ بلاک کیے جانے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ سیشن ججز اس نوعیت کے بڑے احکامات کیسے جاری کر دیتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سمجھ نہیں آتی کہ سیشن اور ایڈیشنل سیشن ججز لوگوں کے شناختی کارڈ کیسے بلاک کر دیتے ہیں۔
چیف جسٹس نے کہا مجھے حیرت ہے اتنا بڑا آرڈر سیشن ججز کیسے کر دیتے ہیں، سمجھ نہیں آتی سیشن جج کیوں شناختی کارڈ بلاک کر دیتے ہیں؟ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے جسٹس ڈوگر نے استفسار کیا کہ یہ ججز کس بنیاد پر شناختی کارڈ بلاک کر رہے ہیں، اس معاملے پر آپ عدالت کی معاونت کریں۔
شکریہ شکریہ پاکستان شکریہ، عالمی میڈیا کا پاکستان کی سفارتی کامیابی کا اعتراف
عدالت نے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل سے تفصیلی معاونت طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کر دی۔


